حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 438 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 438

حیات احمد ۴۳۸ جلد پنجم حصہ اول کے ترک کے لئے میرا وعدہ ہے۔اور وہ طریق یہ ہے کہ امن کی ذمہ داری مذکورہ بالا کے بعد میں لاہور میں آؤں اور مجھے اجازت دی جائے کہ مجمع عام میں جس میں ہر سہ رئیس موصوفین بھی ہوں تین گھنٹہ تک اپنے دعوئی اور دلائل کو پبلک کے سامنے بیان کروں۔پیر مہر علی شاہ صاحب کی طرف سے کوئی خطاب نہ ہو گا۔اور جب میں تقریر ختم کر چکوں تو پھر پیر مہر علی شاہ صاحب اٹھیں اور وہ بھی تین گھنٹے تک پبلک کو مخاطب کر کے یہ ثبوت دیں کہ حقیقت میں قرآن اور حدیث سے یہی ثابت ہے کہ آسمان سے مسیح آئے گا۔پھر بعد اس کے لوگ ان دونوں تقریروں کا خود موازنہ اور مقابلہ کر لیں گے۔ان دونوں باتوں میں سے اگر کوئی بات پیر صاحب منظور فرمائیں تو بشرط تحریری ذمہ داری رؤساء مذکورین میں لاہور میں آجاؤں گا۔وَاللهُ عَلَى مَا نَقُولُ شَهِيدٌ۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى ( ۲۸ / اگست ۱۹۰۰ ء ) ( مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحه ۴۶۴،۴۶۳ طبع بار دوم ) یہ اشتہار بذریعہ رجسٹری خط پیر صاحب کو پہنچایا گیا۔نوٹ۔اس اعلان میں سید برکت علی خاں سے مرادخان بہادر ڈ پٹی برکت علی خاں مرحوم ہے اور نواب فتح علی سے مراد نواب فتح علی خاں صاحب قزلباش ہے۔ان تمام کوششوں کے بالمقابل پیر گولڑوی کو جو کامیابی ہوئی وہ ان کی شکست اور مغرور کی غیر فانی شہادت ہے انہوں نے اس مقابلہ میں نہ آنا تھا نہ آئے تب حضرت اقدس نے ان کو آخری اعلان کے ذریعہ گھر میں بیٹھ کر تفسیر لکھنے کی دعوت دی جہاں ان کو ہر قسم کی آسانیاں حاصل ہوسکتی ہیں مگر پیر صاحب اس میدان میں بھی نہ نکل سکے بالآخر آپ نے ۱۵ار دسمبر ۱۹۰۰ء کو حسب ذیل اشتہار کے ذریعہ آخری اتمام حجت کیا۔