حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 439
حیات احمد ۴۳۹ پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی جلد پنجم حصہ اول ناظرین کو معلوم ہوگا کہ میں نے مخالف مولویوں اور سجادہ نشینوں کی ہر روز کی تکذیب اور زبان درازیاں دیکھ کر اور بہت سی گالیاں سن کر ان کی اس درخواست کے بعد کہ ہمیں کوئی نشان دکھلایا جائے ایک اشتہار شائع کیا تھا جس میں ان لوگوں میں سے مخاطب خاص پیر مہر علی شاہ صاحب تھے اس اشتہار کا خلاصہ مضمون یہ تھا کہ اب تک مباحثات مذہبی بہت ہو چکے ہیں جن سے مخالف مولویوں نے کچھ بھی فائدہ نہیں اٹھایا۔اور چونکہ وہ ہمیشہ آسمانی نشانوں کی درخواست کرتے رہتے ہیں۔کچھ تعجب نہیں کہ کسی وقت ان سے فائدہ اٹھا لیں۔اس بنا پر یہ امر پیش کیا گیا تھا کہ پیر مہر علی شاہ صاحب جو علاوہ کمالات پیری کے علمی تو غل کا بھی دم مارتے ہیں اور اپنے علم کے بھروسہ پر جوش میں آکر انہوں نے میری نسبت فتویٰ تکفیر کو تازہ کیا اور عوام کو بھڑ کانے کے لئے میری تکذیب کے متعلق ایک کتاب لکھی اور اس میں اپنے مایہ علمی پر فخر کر کے میری نسبت یہ زور لگایا کہ یہ شخص علم حدیث اور قرآن سے بے خبر ہے اور اس طرح سرحدی لوگوں کو میری نسبت مخالفانہ جوش دلایا اور علم قرآن کا دعوی کیا۔اگر یہ دعوئی ان کا سچا ہے کہ ان کو علم کتاب اللہ میں بصیرت تام عنایت کی گئی ہے تو پھر کسی کو ان کی پیروی سے انکار نہیں ہونا چاہیے اور علم قرآن سے بلاشبہ باخدا اور راست باز ہونا بھی ثابت ہے کیونکہ بموجب آیت لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ صرف پاک باطن لوگوں کو ہی کتاب عزیز کا علم دیا جاتا ہے، لیکن صرف دعوی قابل تسلیم نہیں بلکہ ہر ایک چیز کا قدر امتحان سے ہوسکتا ہے اور امتحان کا ذریعہ مقابلہ ہے کیونکہ روشنی ظلمت سے ہی شناخت کی جاتی ہے اور 66 چونکہ مجھے خدا تعالیٰ نے اس الہام سے مشرف فرمایا ہے کہ الرَّحْمَنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ “ الواقعه :۸۰