حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 434 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 434

حیات احمد ۴۳۴ جلد پنجم حصہ اول اور چونکہ کھلے کھلے انکار میں ان کی علمیت اور قطبیت پر داغ لگتا تھا اس لئے ایک چال بازی کی راہ اختیار کر کے یہ حجت پیش کر دی کہ آپ کے شرائط منظور ہیں۔مگر اوّل قرآن و حدیث کی رو سے تمہارے عقائد کی نسبت بحث ہونی چاہیے۔پھر اگر مولوی محمد حسین بٹالوی اور ان کے ساتھ کے دو اور آدمیوں نے یہ رائے ظاہر کی کہ تم اس بحث میں حق پر نہیں ہو تو تمہیں میری بیعت کرنی پڑے گی۔پھر اس کے بعد تفسیر لکھنے کا بھی مقابلہ کر لینا۔اب ناظرین خود سوچ لیں کہ کیا انہوں نے اس طرز کے جواب میں میری دعوت کو قبول کیا یارڈ کیا۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ یہ کس قسم کا ٹھٹھا اور جنسی ہے کہ ایسے عقائد کی بحثوں میں جن میں ان کو خود معلوم ہے کہ مولوی محمد حسین سب سے اول مخالف شخص ہے اُس کی رائے پر فیصلہ چھوڑتے ہیں حالانکہ خوب جانتے ہیں کہ اس کا مجھے سچا قرار دینا گویا اپنی قدیم مخالفت کو چھوڑنا ہے۔ہاں اعجازی مقابلہ پر اگر اس کی قسم کا مدار رکھا جاتا تو یہ صورت اور تھی کیونکہ ایسے وقت میں جب کہ خدا تعالیٰ ایک معجزہ کے طور پر ایک فریق کی تائید کرتا تو کیا محمد حسین کیا بلکہ صدہا انسان بے اختیار بول اٹھتے کہ خدا نے اپنے روح القدس سے اس شخص کی مدد کی کیونکہ اس قدر انکشاف حق کے وقت کسی کی مجال نہیں جو جھوٹی قسم کھا سکے ورنہ منقولی مباحثات میں اگر عمد ا نہیں تو عادتاً ہر ایک کو دن طبع اپنے تیں بیچ پر سمجھتا ہے اور قسم بھی کھالیتا ہے۔ماسوا اس کے پیر صاحب کو یہ بھی معلوم ہے کہ میں رسالہ انجام آتھم میں شائع کر چکا ہوں کہ آئندہ میں ایسی منقولی بحثیں ان علماء سے نہیں کروں گا۔اور پھر کیونکر ممکن ہے کہ میں اس عہد کو توڑ دوں اور پیر صاحب کی جماعت کی تہذیب کا یہ حال ہے کہ گندی گالیوں کے کھلے کارڈ میرے نام ڈاک کے ذریعہ سے بھیجے جاتے ہیں۔ایسی گالیاں کہ کوئی ادنیٰ سے ادنیٰ چوہڑہ یا چہار بھی زبان پر نہیں لا سکتا۔پہلے میرا ارادہ تھا کہ پیر صاحب کا یہ گمان باطل بھی توڑنے کے لئے کہ گویا نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کی رو سے کچھ