حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 431
حیات احمد ۴۳۱ جلد پنجم حصہ اول پیر مہر علی شاہ صاحب کی طرف سے اس میدان میں حاضر ہونے کے لئے کوئی اشتہار نکلا اور نہ دوسرے مولویوں کے چالیس کے مجمع نے کوئی اشتہار دیا تو اس صورت میں یہی سمجھا جائے گا کہ خدا تعالیٰ نے ان سب کے دلوں میں رعب ڈال کر ایک آسمانی نشان ظاہر کیا کیونکہ سب پر رعب ڈال کر سب کی زبان بند کر دینا اور ان کی تمام شیخیوں کو کچل ڈالنا یہ کام بجز الہی طاقت کے کسی دوسرے سے ہرگز نہیں ہوسکتا۔وَتِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ مِنَ الْاَشْرَاطِ الَّتِي أَرَدْنَا ذِكْرَهَا - تبلیغ رسالت جلد 9 صفحہ ۷۳ تا۷۷۔مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحه ۴۴۳ تا ۴۴۷ طبع بار دوم ) اس اعلان میں جہاں ایک طرف قرآن کریم کے حقائق و معارف میں مقابلہ کی دعوت تھی اس کے ضمن میں تعلق باللہ اور قرب الہی کی نعمت کے عملی اظہار کی طرف بھی بلایا تھا اور قبولیت دعا کو بطور نشان پیش کیا تھا مگر پیر صاحب نے اس دعوت کو قبول نہ کیا ایک راہ فرار نکالی کہ تفسیر سے پہلے مباحثہ ہوا اور مولوی محمد حسین بٹالوی حکم ہو اور اگر وہ فیصلہ ہمارے حق میں کردے تو مرزا صاحب ہمارے ہاتھ پر بیعت کر لیں۔مولوی محمد حسین مشہور مخالف اور مکفر کو پیر صاحب کا حکم بنانا ظاہر کرتا ہے کہ وہ اس میدان میں سے بھاگنے کا راستہ نکال رہے ہیں۔پیر صاحب اور ان کے غازی مرد طویل اشتہار کا جواب حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب نے ۱۸ راگست ۱۹۰۰ء کو شائع کیا جن میں پیر صاحب اور غازی مرد کا مسکت جواب دے کر مباحثہ کی دعوت دی اور نیز مطالبہ کیا گیا کہ ہر سہ مولوی صاحبان ہمارے مخالف اور پیر صاحب کے موافق ہیں اور مجوزہ قسم کھا کر اعلان کریں کہ پیر گولڑوی نے رعب میں آکر مقابلہ تفسیر کو ٹالنے کے واسطے یہ تجویز نہیں کی بلکہ انہوں نے نیک نیتی سے یہ کارروائی کی ہے تب بھی ہم مان لیں گے۔مگر وہاں ایک نہیں تھی جواب میں۔پیر صاحب تو خاموش ہو گئے مگر ان کے ایک مرید حکیم سلطان محمود نے راولپنڈی سے جواب دیا کہ اگر مرزا صاحب نہیں مانتے تو پیر صاحب کو مرزا صاحب کی شرائط منظور ہیں مرزا صاحب آجائیں۔اس پر پیر صاحب کی خدمت میں متعدد اشتہار اور خطوط جماعت احمدیہ کی طرف سے لکھے گئے یہ کہ آپ حکیم سلطان محمود اپنے مرید کے بیان کو اپنی زبان مبارک سے تحریر فرماویں اس پر پیر صاحب خاموش ہو گئے۔مگر عوام میں مشہور کیا گیا کہ پیر صاحب مباحثہ تقریری کے لئے لاہور آنے والے ہیں