حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 430 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 430

حیات احمد ۴۳۰ جلد پنجم حصہ اوّل مگر یہ ضروری شرط ہوگی کہ سنانے سے پہلے اسی دن اور اسی وقت جبکہ وہ بالمقابل تحریرختم کر چکے ہوں ایک نقل بعد ثبت دستخط مجھ کو دے دیں اور جائز نہیں ہو گا کہ نقل دینے کے بعد اس مضمون پر کچھ زیادہ کریں یا اصلاح کریں اور سہو و نسیان کا کوئی عذر سنا نہیں جائے گا۔اور اس شرط کا ہم میں سے ہر ایک پابند ہوگا۔(۸) تمام مضامین کے سنانے کے بعد تین مولوی صاحبان جن کو پیر مہر علی شاہ صاحب تجویز کریں گے اس قسم کے تین مرتبہ کے حلف کے ساتھ جو قذف محسنات کے بارے میں قرآن شریف میں مندرج ہے اپنی رائے ظاہر کریں گے کہ کیا یہ تمام مولوی صاحبان مقابل میں غالب رہے یا مغلوب رہے اور وہ رائے منطبع ہو کر وہی آخری فیصلہ اور ہمارے اندرونی مخالفوں کا قطعی طور پر قرار دیا جائے گا تمہیں (۹) نویں شرط یہ ہے کہ اگر الہی رعب کے نیچے آکر پیر مہر علی شاہ صاحب سے ڈر جائیں اور دل میں اپنے تئیں کا ذب اور ناحق پر سمجھ کر گریز اختیار کر لیں تو اس صورت میں یہ جائز نہیں ہوگا کہ دوسرے مولویوں میں سے صرف ایک یا دو شخص مقابلہ کا اشتہار دیں۔کیونکہ ایسا مقابلہ بے فائدہ اور محض تضیع اوقات ہے وجہ یہ کہ بعد میں دوسرے مولویوں کے لئے یہ عذر بنا رہتا ہے کہ مقابلہ کرنے والے کیا چیز اور کیا حقیقت تھے یا جاہل اور بے علم تھے لہذا یہ ضروری شرط ہوگی کہ اس حالت میں جبکہ پیر مہر علی شاہ صاحب اپنے مریدوں کو دریائے ندامت میں ڈال کر بھاگ جائیں اور اپنے لئے کنارہ کشی کا داغ قبول کر لیں تو کم سے کم چالیس نامی مولویوں کا ہونا ضروری ہے جو میدان میں آنے کی درخواست کریں اور ہمیں منظور ہے کہ وہ ان میں سے ہوں جن کے نام ذیل میں لکھے جائیں گے یا اسی درجہ کے اور مولوی صاحبان باہم مل کر اشتہار دیں کہ جو چالیس سے کم نہ ہوں اور اس صورت میں ان سے بپا بندی شرائط مذکورہ بالا مقابلہ کیا جائے گا۔(۱۰) اگر اشتہار ہذا کے شائع ہونے کی تاریخ سے جو ۲۴ / جولائی ۱۹۰۰ء ہے۔ایک ماہ تک نہ اگر بعض مولوی صاحبان جو لاہور سے کسی قدر فاصلہ پر رہتے ہیں یہ عذر پیش کریں کہ ہم بوجہ ناداری لاہور پہنچ نہیں سکتے تو مناسب ہے کہ وہ بطور قرضہ انتظام کرا یہ سفر کر کے لاہور پہنچ جائیں۔اگر فتحیاب ہو گئے تو میں کل کرایہ آمد ورفت ان کی دے دوں گا۔منہ