حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 429
حیات احمد ۴۲۹ جلد پنجم حصہ اول (۴) چوتھی یہ شرط ہے کہ جس قدر اس مقابلہ کے لئے مولوی صاحبان حاضر ہوں گے اُن کے لئے ہرگز جائز نہ ہوگا کہ ایک دوسرے کو کسی قسم کی مدد دیں۔نہ تحریر سے نہ تقریر سے نہ اشارات سے بلکہ ضروری ہوگا کہ ہر ایک صاحب ایک مناسب فاصلہ پر ایک دوسرے سے دور ہو کر بیٹھیں اور ایک دوسرے کی تحریر کو نہ دیکھیں اور جو شخص ایسی حرکت کرے وہ کمرہ مقابلہ سے فی الفور نکال دیا جائے گا اور ضروری ہوگا کہ ہر ایک صاحب اپنے ہاتھ سے ہی لکھے۔ہرگز جائز نہیں ہوگا کہ آپ بولتا جائے اور دوسرا لکھتا جائے کیونکہ اس صورت میں اقتباس اور استراق کا اندیشہ ہے۔(۵) ضروری ہوگا کہ ہر ایک صاحب جب اپنے مضمون کو تمام کر لیں جو کم سے کم حسب ہدایت اشتہار ہذا ہمیں ورق کا ہوگا جس میں کوئی عبارت اردو کی نہیں ہوگی بلکہ خالص عربی ہوگی تو اس کے نیچے اپنے پورے دستخط کریں اور اسی وقت ایک ایک نقل اس کی مع دستخط اور نیز مع ایک تصدیقی عبارت جو بدیں مضمون ہو کہ نقل ہذا مطابق اصل ہے اس عاجز کے حوالہ کر دیں۔اور یہ میرا بھی فرض ہوگا کہ میں بھی بعد اخذ تمام نقول کے ایک نقل اپنی تحریر کی بعد ثبت دستخط پیر مہر علی صاحب کو دے دوں تو یہ میرے ذمہ نہیں ہوگا کہ ہر ایک صاحب کو ایک ایک نقل دوں کیونکہ اس تھوڑے وقت میں ایسا ہونا غیر ممکن ہے کہ میں مثلاً پچاس مولویوں کے لئے پچاس نقلیں اپنے ہاتھ سے لکھ کر دوں۔ہاں ہر ایک مولوی صاحب کو اختیار ہوگا کہ وہ اپنے لئے ایک ایک نقل میرے مضمون کی لے کر پیر مہر علی شاہ صاحب سے لے کر خود لکھ لیں مگر یہ اس وقت ہوگا کہ جب اپنے مضمون کی نقل مجھے دے چکیں۔(1) ہر ایک شخص اپنا اپنا مضمون بعد لکھنے کے آپ سنائے گا یا اختیار ہو گا کہ جس کو وہ پسند کرے وہ سناوے۔(۷) اگر سنانے کے لئے وقت کافی نہیں ہوگا تو جائز ہوگا کہ وہ مضمون دوسرے دن سنا دیا جائے حملا یہ میرا بھی فرض ہوگا کہ میں بھی اپنے ہاتھ سے لکھ کر دوں اور جائز ہوگا کہ میں اپنا فرض پورا ادا کر کے دوسروں کی نگرانی کے لئے کسی دوسرے کو مقرر کر دوں اور یہی اختیار مخالفین کو ہو گا۔منہ