حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 428
حیات احمد ۴۲۸ جلد پنجم حصہ اول پنجاب اور ہندوستان کے تمام ان مولویوں کو مدعو کیا جاتا ہے جو یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ علم تفسیر قرآن اور عربی کے علم ادب اور بلاغت فصاحت میں سر آمد روزگار ہیں۔مگر شرائط ذیل کی پابندی ضروری ہوگی۔(۱) اس مقابلہ کے لئے پیر مہر علی صاحب کی بہر حالت شمولیت ضروری ہوگی۔کیونکہ خیال کیا گیا ہے کہ وہ علم عربی اور قرآن دانی میں ان تمام مولویوں سے بزرگ اور افضل ہیں لہذا کسی دوسرے مولوی کوصرف اس حالت میں قبول کیا جائے گا کہ جب پیر مہر علی شاہ صاحب اس دعوت کو قبول کر کے بذریعہ کسی چھپے ہوئے اشتہار کے شائع کر دیں کہ میں مقابلہ کے لئے تیار ہوں میں یا مقابلہ کرنے والے علماء کی ایک ایسی جماعت پیش کریں جو چالیس سے کم نہ ہو۔ہاں ضروری ہوگا کہ دوسرے مولوی صاحبوں کے لئے وقت اور گنجائش نکالنے کے لئے پیر صاحب موصوف مباحثہ کیلئے ایک مہینے سے کم تاریخ مقرر نہ کریں تا اس مدت تک باور کرنے کی وجہ پیدا ہو جائے کہ ان تمام مولویوں کو پیر مہرعلی شاہ صاحب کے اشتہار سے اطلاع ہو گئی ہے۔پہلے میں نے ایک ہفتہ مقرر کیا تھا مگر اب اس لحاظ سے اس قدر تھوڑی میعاد دعوت عام اطلاع کے لئے کافی نہیں ہاں ضروری ہوگا کہ اس اشتہار کے شائع ہونے کے بعد پیر صاحب موصوف دس دن کے اندر اس دعوت کے قبول کے بارے میں ایک عام اشتہار شائع کر دیں اور بہتر ہوگا کہ پانچ ہزار کا پی چھپوا کر بذریعہ چند نامی مولوی صاحبان پنجاب و ہندوستان میں اس معرکہ مباحثہ کی عام شہرت دے دیں۔(۲) دوسری شرط یہ ہوگی کہ مقام مباحثہ لاہور ہو گا جوصدر مقام پنجاب ہے۔اور تجویز مکان پیر صاحب کے ذمہ ہوگی لیکن اگر وہ اپنے اس اشتہار میں جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے تجویز مکان اپنے ذمہ نہ لیں تو پھر یہ تجویز میرے ذمہ ہوگی اور کچھ حرج نہیں تمام کرایہ مکان مباحثہ کا میں ہی دوں گا۔(۳) تیسری شرط یہ ہے کہ یہ بحث صرف ایک دن میں ہی ختم ہو جائے گی۔اور ہر ایک شخص مقابل کو سات گھنٹے تک لکھنے کے لیے مہلت ملے گی۔پیر مہر علی شاہ صاحب پر یہ فرض ہوگا کہ اگر وہ اپنے تئیں مردمیدان سمجھیں تو اشتہار ہذا کی اشاعت کی تاریخ سے یعنی اس روز سے جو بذریعہ رجسٹری اشتہار ہذا ان کو پہنچ جائے دس روز کے اندراپنی طیاری مقابلہ اور قبول شرائط سے ہمیں اور پبلک کو اطلاع دیں۔منہ