حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 427
حیات احمد ۴۲۷ جلد پنجم حصہ اول المشتهر مرزا غلام احمد از قادیان ۲۰ر جولا ئی ۱۹۰۰ء تبلیغ رسالت جلد ۹ صفحه ۶۵ تا ۷۲۔مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحه ۴۳۸ تا ۲۴۳ طبع بار دوم ) نوٹ۔اس اشتہار پر سلسلہ کے ممتاز علماء اور بعض مخلصین کے اسماء بطور شہادت درج ہیں اور اس اشتہار کے ساتھ بطور ضمیمہ شرائط مقابلہ اور علمائے مخاطبین کے نام درج ہیں یہاں صرف شرائط درج کرتا ہوں تا کہ قارئین کرام کو معلوم ہو کہ شرائط کس قدر معقول اور حقیقت پر مبنی ہیں۔ضمیمہ اشتہار دعوت پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی پیر مہرعلی شاہ کے ہزار ہا مرید یہ اعتقاد ر کھتے ہیں کہ وہ علم میں اور حقائق اور معارف دین میں اور علوم ادبیہ میں اس ملک کے تمام مولویوں سے بڑھ کر ہیں۔اسی وجہ سے میں نے اس امتحان کے لئے پیر صاحب موصوف کو اختیار کیا ہے کہ تا ان کے مقابلہ سے خدا تعالیٰ کا وہ نشان ظاہر ہو جائے جو اُس کے مرسلین اور مامورین کی ایک خاص علامت ہے لیکن ممکن ہے کہ اس ملک کے بعض علماء ناحق کی شیخنی سے یہ خیال کریں کہ ہم قرآن شریف کے جانے اور زبان عربی کے علم ادب میں پیر صاحب موصوف پر فوقیت رکھتے ہیں یا کسی آسمانی نشان کے ظاہر ہونے کے وقت یہ عذر پیش کر دیں کہ پیر صاحب موصوف کا مغلوب ہونا ہم پر حجت نہیں ہے اور اگر ہمیں اس مقابلہ کے لئے بلایا جاتا تو ضرور ہم غالب آتے۔اس لئے قرین مصلحت معلوم ہوا کہ ان تمام بزرگوں کو بھی اس مقابلہ سے باہر نہ رکھا جائے اور خود ظاہر ہے کہ جس قدر مقابلہ کرنے والے کثرت سے میدان میں آئیں گے اسی قدر الہی نشان کی عظمت بڑی قوت اور سطوت سے ظہور میں آئے گی اور یہ ایک ایسا ز بر دست نشان ہوگا کہ آفتاب کی طرح چمکتا ہوا نظر آئے گا اور ممکن ہے کہ اس سے بعض نیک دل مولویوں کو ہدایت ہو جائے اور وہ اس الہی طاقت کو دیکھ لیں جو اس عاجز کے شامل حال ہے۔لہذا اس ضمیمہ کے ذریعہ سے