حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 406
حیات احمد ۴۰۶ جلد پنجم حصہ اوّل السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ بعد ہذا اس عاجز کو اس وقت آں مکرم کے الہامات کی انتظار رہی۔مگر کچھ معلوم نہیں ہوا کہ توقف کا کیا باعث ہے۔میں نے سراسر نیک نیتی سے جس کو خدائے کریم جانتا ہے یہ درخواست کی تھی تا اگر خدا تعالیٰ چاہے تو ان متناقض الہامات میں کچھ فیصلہ ہو جائے کیونکہ الہامات کا باہمی تناقض اور اختلافات اسلام کو سخت ضرر پہنچاتا ہے اور اسلام کے مخالفوں کو ہنسی اور اعتراض کا موقع ملتا ہے اور اس طرح پر دین کا استخفاف ہوتا ہے۔بھلا یہ کیوں کر ہو سکے کہ ایک شخص کو تو خدا تعالیٰ یہ الہام کرے کہ تو خدا تعالیٰ کا برگزیدہ اور اس زمانہ کے تمام مومنوں سے بہتر اور افضل اور مثیل الانبیاء اور مسیح موعود اور مجدد چودھویں صدی اور خدا کا پیارا اور اپنے مرتبہ میں نبیوں کے مانند اور خدا کا مرسل ہے اور اس کی درگاہ میں وجیہ اور مقرب اور مسیح ابن مریم کی مانند ہے اور اُدھر دوسرے کو یہ الہام کرے کہ یہ شخص فرعون اور کذاب اور مسرف اور فاسق اور کافر اور ایسا اور ویسا ہے۔ایسا ہی اس شخص کو تو یہ الہام کرے کہ جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے اور پھر دوسرے کو یہ الہام کرے کہ جو اس کی پیروی کرتے ہیں وہ شقاوت کا طریق اختیار کرتے ہیں۔پس آپ سمجھ سکتے ہیں کہ کس قدر اسلام پر یہ مصیبت ہے کہ ایسے مختلف الہام ہوں اور مختلف فرقے پیدا ہوں جو ایک دوسرے کے سخت مخالف ہوں۔اس لئے ہمدردی اسلام اسی میں ہے کہ ان مختلف الہامات کا فیصلہ ہو جائے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کوئی فیصلہ کی راہ پیدا کر دے گا اور اس مصیبت سے مسلمانوں کو چھوڑا ئے گا لیکن یہ فیصلہ تب ہوسکتا ہے کہ ملہمین جن کو الہام ہوتا ہے وہ زنانہ سیرت اختیار نہ کریں اور مرد میدان بن کر جس طرح کے الہام ہوں وہ سب دیانت کے ساتھ چھاپ دیں اور کوئی الہام جو تصدیق یا تکذیب کے متعلق ہو پوشیدہ نہ