حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 405
حیات احمد ۴۰۵ جلد پنجم حصہ اول ہر ایک طالب حق کو چاہیے کہ ان صاحبوں سے حلفاً دریافت کرے۔منشی محمد یعقوب صاحب کا خط تو میں نے بجنسہ لکھ دیا ہے جو اوپر ذکر ہو چکا ہے۔ان سے دریافت کرلو کہ ان کا یہ خط ہے یا نہیں۔اور حافظ محمد یوسف صاحب کی گواہی کا نہ ایک نہ دو بلکہ دوسو آدمی گواہ ہے وَلَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِین۔اب اگر مولوی عبد اللہ صاحب کی اولا د کے دل میں کچھ بھی خدا تعالیٰ کا خوف ہو تو اپنے باپ کی پیشگوئی کو غور سے دیکھیں۔ہاں اس پیشگوئی میں یہ بھی ہے کہ وہ اس نور کو قبول نہیں کریں گے اور محروم رہ جائیں گے۔سوجیسا کہ سمجھا جاتا ہے اگر محروم کے لفظ کے یہی معنی ہیں جو سمجھے گئے تو پھر قضا و قدر کے مقابل پر کیا پیش جاسکتی ہے، لیکن ہم خاص طور پر منشی الہی بخش صاحب اکو نٹنٹ کو اس پیشگوئی کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ یہ اُن کے مرشد کی پیشگوئی ہے جس کو وہ مسیح موعود سے بھی زیادہ عزت دیتے ہیں۔ہاں اگر ان کو شک ہو تو حافظ محمد یوسف صاحب اور منشی محمد یعقوب سے قسمیہ دریافت کر لیں۔اس قدر کافی ہوگا کہ اگر وہ اس بیان کی تصدیق نہ کریں تو اتنا کہہ دیں کہ میرے پر خدا کی لعنت ہو اگر میں نے جھوٹ بولا ہے اور نیز ذرہ شرم کر کے اس بات کو سوچیں کہ وہ میری نسبت کہتے ہیں کہ صدہا الہامات سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہ شخص کافر اور بے ایمان اور دجال اور مفتری ہے اور ان کا مُرشد عبداللہ غزنوی یہ گواہی دیتا ہے کہ یہ شخص خدا کا نور ہے اور اس سے محروم خدا سے محروم ہے۔اب با بوالہی بخش صاحب بتلائیں کہ ان کا کشف جھوٹا ہے یا اُن کے مرشد مولوی عبداللہ کا۔اور اب ہم بہت انتظار کے بعد اس کے ذیل میں اپنا وہ خط درج کرتے ہیں جس کا ہم نے وعدہ کیا تھا اور وہ یہ ہے۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ از جانب مُتَوَكِّل عَلَى اللهِ الْاَحَد غلام احمد عافاه الله واید بخدمت اخویم مکرم با بوالہی بخش صاحب