حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 404 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 404

حیات احمد ۴۰۴ جلد پنجم حصہ اول مباہلہ کے بعد لاکھوں انسانوں میں عزت کے ساتھ مجھے شہرت دی اور مخالف کی ذلّت اور نامرادی ثابت کر کے دکھلا دی۔اس مباہلہ کے میدان میں ایک کثیر جماعت کے رو برونشی محمد یعقوب صاحب نے کھڑے ہو کر میری نسبت بیان کیا تھا کہ مولوی عبداللہ صاحب نے مجھے کہا تھا کہ ایک نور پیدا ہوگا جس سے دنیا کے چاروں طرف روشنی ہو جائے گی اور وہ نور مرزا غلام احمد ہے جو قادیان میں رہتا ہے۔یہ وہ گواہی ہے کہ جونشی محمد یعقوب نے بمقام امرتسر محمد شاہ صاحب کی مسجد کے قریب ایک میدان میں کھڑے ہو کر قریباً دوسو آدمی کے روبرو دی تھی اور اب جو ۳۰ را پریل ۱۹۰۰ء کومنشی صاحب مذکور کا اس جگہ خط پہنچا اس کی عبارت یہ ہے جو ذیل میں لکھتا ہوں۔” میرے اشفاق فرمائے منشی ظفر احمد جی زَادَ لُطْفُهُ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاته ! آج ۲۲ / اپریل ۱۹۰۰ء کو آپ کا عنایت نامہ صادر ہوا۔دریافت خیریت سے بہت خوشی ہوئی اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ با من خود رکھ کر خواہش دلی پر پہنچا وے۔آپ میرے بیان کو بالکل بھول گئے۔میں نے تو اس صورت میں بیان کیا تھا کہ میرے گھر میں یہ خواب دیکھا تھا کہ آسمان سے چاند ٹوٹا اور درمیان آسمان اور زمین کے آکر اس کے چار ٹکڑے ہو کر ہر چہار ٹکڑے ہر ایک گوشہ دنیا میں گرے اور گرتے ہوئے ہر چہار گوشہ میں بہت زور و شور سے شعلہ زن ہوئے۔یہ خواب بندہ نے علی الصباح مولوی عبد اللہ صاحب مرحوم سے بیان کر کے تعبیر دریافت کی، فرمایا " قریب ہے کہ کوئی شخص اللہ کی طرف سے پیدا ہو جس کے سبب سے دنیا کے ہر گوشہ سے دین کی ترقی ہو“۔اور ساتھ ہی ایسا بھی فرمایا کہ شاید مرزا قادیان سے ظہور ہو“۔یعنی اس نور کا ظہور مرزا قادیانی کے وجود سے ہو۔فقط اب یہ دو گواہیاں ان دوانسانوں کی ہیں کہ اس وقت وہ اپنی ذلیل دنیا کی مصلحت سے میرے مخالف ہیں۔یہ دونوں مولوی عبد اللہ صاحب کے رفیق اور مصاحب تھے۔