حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 392 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 392

حیات احمد ۳۹۲ جلد پنجم حصہ اوّل بھوک اور پیاس سے متاثر ہوتے تھے۔یہ تو عقل کی رو سے ہم نے بیان کیا اور انجیل کی رو سے اس لئے یہ دعویٰ قبول کے لائق نہیں کہ اول تو انجیلیں چالیس سے بھی کچھ زیادہ ہیں جن میں سے حضرات عیسائی صاحبوں کی رائے میں چار صحیح اور باقی جعلی ہیں۔لیکن ی محض ایک رائے ہے جس کی تائید میں کوئی وجوہ شائع نہیں کی گئیں اور نہ وہ تمام انجیلیں چھاپ کر عام طور پر شائع کی گئی ہیں تا پبلک کو رائے لگانے کا موقع ملتا۔پھر قطع نظر اس سے یہ چارا جیلیں جن کے بیان پر بھروسہ کیا گیا ہے یہ بھی کھلی کھلی اور یقینی شہادت اس بات کی نہیں دیتیں کہ در حقیقت حضرت مسیح آسمان پر مع جسم عصری چلے گئے تھے۔ان انجیلوں نے کوئی جماعت دو یا چار ثقہ آدمیوں کی پیش نہیں کی جن کی شہادت پر اعتماد ہوسکتا۔اور اس واقعہ کے ذاتی اور عینی رؤیت کے مدعی ہوتے۔پھر انہیں انجیلوں میں یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت مسیح ایک چور کو تسلی دیتے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ بہشت میں روزہ کھولے گا۔بہت خوب۔مگر اس سے لازم آتا ہے کہ یا تو چور بھی جسم عصری کے ساتھ بہشت میں گیا ہو یا حضرت مسیح چور کی طرح محض روح کے ساتھ بہشت میں گئے ہوں۔پھر اس صورت میں جسم کے ساتھ جانا صریح باطل، یا یوں کہو کہ چور تو بدستور بہشت میں روحانی رنگ میں رہا لیکن حضرت مسیح تین دن بہشت میں رہ کر پھر اس سے نکالے گئے۔اسی طرح اور کئی قسم کے مشکلات اور پیچیدگیاں ہیں جو انجیل سے پیدا ہوتی ہیں چنانچہ یہ بھی عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح فوت ہونے پر بہشت کی طرف نہیں گئے تھے بلکہ دوزخ کی طرف گئے تھے۔اس سے سمجھا جاتا ہے کہ غالبا وہ چور بھی دوزخ کی طرف گیا ہوگا کیونکہ وہ تو خود دوزخ کے لائق ہی تھا۔پس حق بات یہی تھی کہ انجیل کے متناقض بیان نے انجیل کو بے اعتماد کر دیا ہے۔حضرت مسیح کا صلیب کے بعد اپنے حواریوں کو ملنا ، کباب کھانا، زخم دکھلانا، سڑک پر چلنا ، ایک گاؤں میں رات اکٹھے رہنا جو انجیلوں سے ثابت ہوتا ہے۔یہ وہ امور ہیں جو قطعی طور پر ثابت کرتے ہیں جو حضرت مسیح ا آل عمران: ۵۶