حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 390
حیات احمد ۳۹۰ جلد پنجم حصہ اول مولوی ثناء اللہ صاحب نے اس سے پیشتر بھی ایک مرتبہ اخلاقی جرات سے کام لیا تھا جب آتھم سے امرتسر میں مباحثہ قرار پایا تھا اور بعد میں عیسائیوں نے ٹلا نا چاہا کہ حضرت اقدس اور آپ کی جماعت کے خلاف کفر کا فتویٰ ہے تب بھی مولوی ثناء اللہ صاحب نے اعلان کیا تھا جس کا مفہوم یہ تھا کہ اس معاملہ میں آپ کے ماتحت ایک سپاہی کی حیثیت سے عیسائیوں کے مقابلہ میں کھڑا رہوں گا بقیہ حاشیہ۔ہزاروں بچے ایسی حالت میں مر جاتے ہیں کہ کوئی ضرر بھی کسی انسان کو انہوں نے نہیں پہنچایا تھا بلکہ انسان کامل کی شناخت کے لئے کسب خیر کا پہلو دیکھنا چاہیے یعنی یہ کہ کیا کیا حقیقی نیکیاں اس سے ظہور میں آئیں اور کیا کیا حقیقی کمالات اس کے دل اور دماغ اور کانشنس میں موجود ہیں اور کیا کیا صفات فاضلہ اُس کے اندر موجود ہیں۔سو یہی وہ امر ہے جس کو پیش نظر رکھ کر حضرت مسیح کے ذاتی کمالات اور انواع خیرات اور ہمارے نبی ﷺ کے کمالات اور خیرات کو ہر ایک پہلو سے جانچنا چاہیے مثلاً سخاوت ،فتوت ، مواسات حقیقی علم جس کے لئے قدرت سخت گوئی شرط ہے، حقیقی عفو جس کے لئے قدرت انتقام شرط ہے، حقیقی شجاعت جس کے لئے خوفناک دشمنوں کا مقابلہ شرط ہے، حقیقی عدل جس کے لئے قدرت ظلم شرط ہے۔حقیقی رحم جس کے لئے قدرت سزا شرط ہے اور اعلیٰ درجہ کی زیر کی اور اعلیٰ درجہ کا حافظہ اور اعلیٰ درجہ کی فیض رسانی اور اعلیٰ درجہ کی استقامت اور اعلیٰ درجہ کا احسان جن کے لئے نمونے اور نظیر میں شرط ہیں۔پس اس قسم کی صفات فاضلہ میں مقابلہ اور موازنہ ہونا چاہیے نہ صرف ترک شر میں جس کا نام بشپ صاحب معصومیت رکھتے ہیں۔کیونکہ نبیوں کی نسبت یہ خیال کرنا بھی ایک گناہ ہے کہ انہوں نے چوری ڈاکہ وغیرہ کا موقع پا کر اپنے تئیں بچایا یا یہ جرائم ان پر ثابت نہ ہو سکے بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام کا فرمانا کہ مجھے نیک مت کہہ یہ ایک ایسی وصیت تھی جس پر پادری صاحبوں کو عمل کرنا چاہیے تھا۔اگر بشپ صاحب تحقیق حق کے در حقیقت شائق ہیں تو وہ اس مضمون کا اشتہار دے دیں کہ مسلمانوں سے اسی طریق سے بحث کرنا چاہتے ہیں کہ ان دونوں نبیوں میں سے کمالات ایمانی و اخلاقی و برکاتی و تاثیراتی و قولی فعلی و ایمانی و عرفانی و تقدسی اور طریق معاشرت کے رو سے کوئی نبی افضل و اعلیٰ ہے اگر وہ ایسا کریں اور کوئی بھی تاریخ مقرر کر کے ہمیں اطلاع دیں تو ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی شخص تاریخ مقررہ پر ضرور جلسہ قرار دادہ پر حاضر ہو جائے گاور نہ یہ طریق محض ایک دھوکہ دینے کی راہ ہے جس کا یہی جواب کافی ہے اور اگر وہ قبول کر لیں تو یہ شرط ضروری ہوگی کہ ہمیں پانچ گھنٹہ سے کم وقت نہ دیا جائے۔راقم خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ۲۵ مئی ۱۹۰۰ ء تبلیغ رسالت جلد نهم صفحه ۳ تا ۱ مجموعه اشتہارات جلد دوم صفحه ۱۳۷۹ تا ۳۸۳ طبع باردوم)