حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 389 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 389

حیات احمد ۳۸۹ جلد پنجم حصہ اول ہوئی اور اس کسر صلیب کا تاج مسیح موعود کے سر پر رکھا گیا۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ أَحْمَدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَاَحْمَدٍ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِید اس کے جواب میں بشپ صاحب نے کیا فرمایا ؟ جواب ہے کچھ نہیں۔صرف یہ کہا ”میں نے یہ باتیں آج نئی سنیں۔میں ان کا کیا جواب دوں۔اور یہ کہ میں مسلمانوں میں اختلاف بڑھانا نہیں چاہتا۔بقیہ حاشیہ۔جس کو معصومیت کہا جاتا ہے کوئی اعلیٰ صفت نہیں ہے دنیا میں ہزاروں اس قسم کے لوگ موجود ہیں کہ ان کو موقع نہیں ملا کہ وہ نقب لگا ئیں یا دھاڑ مار میں یا خون کریں یا شیر خوار بچوں کا گلا گھونٹیں یا بیچاری کمز ور عورتوں کا زیور کانوں سے توڑ کر لے جائیں۔پس ہم کہاں تک اس ترک شر کی وجہ سے لوگوں کو اپنا محسن ٹھہراتے جائیں اور ان کو محض اسی وجہ سے انسان کامل مان لیں؟ ماسوا اس کے ترک شرک کے لیے جس کو دوسرے لفظوں میں معصومیت کہتے ہیں بہت سے وجوہ ہیں۔ہر ایک کو یہ لیاقت کب حاصل ہے کہ رات کو کیلا اٹھے اور حربہ نقب ہاتھ میں لے کر اور لنگوٹی باندھ کر کسی کو چے میں گھس جائے اور عین موقعہ پر نقب لگاوے اور مال قابو میں کرے اور پھر جان بچا کر بھاگ جائے۔اس قسم کی مشقیں نبیوں کو کہاں ہیں اور بغیر لیاقت اور قوت کے جرات پیدا ہی نہیں ہوسکتی۔ایسا ہی زنا کاری بھی قوت مردمی کی محتاج ہے اور اگر مرد ہو بھی تب بھی محض خالی ہاتھ سے غیر ممکن ہے۔بازاری عورتوں نے اپنے نفس کو وقف تو نہیں کر رکھا وہ بھی آخر کچھ مانگتی ہیں۔تلوار چلانے کے لئے بھی باز و چاہیے اور کچھ انکل بھی اور کچھ بہادری اور دل کی قوت بھی۔بعض ایک چڑیا کو بھی نہیں مار سکتے اور ڈاکہ مارنا بھی ہر ایک بزدل کا کام نہیں۔اب اس بات کا کون فیصلہ کرے کہ مثلاً ایک شخص جو ایک پر ثمر باغ کے پاس پاس جار ہا تھا اس نے اس باغ کا اس لئے بے اجازت پھل نہیں تو ڑا کہ وہ ایک بڑا مقدس انسان تھا۔کیا وجہ کہ ہم یہ نہ کہیں کہ اس لئے نہیں تو ڑا کہ دن کا وقت تھا۔پچاس محافظ باغ میں موجود تھے اگر تو ڑتا تو پکڑا جاتا مارکھاتا ہے عزت ہوتا۔اس قسم کی نبیوں کی تعریف کرنا اور بار بار معصویت معصومیت پیش کرنا اور دکھلانا کہ انہوں نے ارتکاب جرائم نہیں کیا سخت مکروہ اور ترک ادب ہے۔ہاں ہزاروں صفات کے ضمن میں اگر یہ بھی بیان ہو تو کچھ مضائقہ نہیں۔مگر صرف اتنی ہی بات کہ اس نبی نے کبھی کسی بچے کا دو چار آنے کی طمع کے لئے گلا نہیں گھونٹا یا کسی اور کمینہ بدی کا مرتکب نہیں ہوا، یہ بلاشبہ ہجو ہے۔یہ ان لوگوں کے خیال ہیں جنہوں نے انسان کی حقیقی نیکی اور حقیقی کمال میں کبھی غور نہیں کی۔جس شخص کا نام ہم انسان کامل رکھتے ہیں ہمیں نہیں چاہیے کہ محض ترک شر کے پہلو سے اس کی بزرگی کا وزن کریں کیونکہ اس وزن سے اگر کچھ ثابت ہو تو صرف یہ ہوگا کہ ایسا انسان بد معاشوں کے گروہ میں سے نہیں ہے۔معمولی بھلے مانسوں میں سے ہے کیونکہ جیسا کہ ابھی میں نے بیان کیا ہے محض شرارت سے باز رہنا کوئی اعلیٰ خوبیوں کی بات نہیں۔ایسا تو کبھی سانپ بھی کرتا ہے کہ آگے سے خاموش گزر جاتا ہے اورحملہ نہیں کرتا اور کبھی بھیڑیا بھی سامنے سے سرنگوں گزر جاتا ہے۔