حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 388
حیات احمد ۳۸۸ جلد پنجم حصہ اوّل پھر یہ جواب اس کے ساتھ ہوگا۔مفتی صاحب نے بڑی ہمت اور کوشش سے اس جواب کو ( جو قلمی جواب لکھ کر دیا گیا تھا ) چھپوا لیا اور یہ مطبوعہ جواب عین اس وقت ملا جب بشپ صاحب کی تقریر ختم ہوئی جس انداز سے مفتی صاحب نے اس کو ادا کیا وہ بھی خدا تعالیٰ کا خاص فضل تھا غرض ایک بڑے عظیم الشان مجمع میں جو تین ہزار سے زائد آدمیوں کا مجمع تھا نمایاں اور روشن طور پر اسلام کی فتح بقیہ حاشیہ بھی میں نے آگ نہیں لگائی اور نہ تیرے بچہ کا گلا گھونٹا تو ظاہر ہے کہ عقلمندوں کے نزدیک یہ کوئی اعلیٰ درجہ کی نیکی نہیں سمجھی جائے گی اور نہ ایسے حقوق اور فضائل کو پیش کرنے والا کوئی بھلا مانس انسان خیال کیا جائے گا۔ورنہ ایک حجام اگر یہ احسان جتلا کر ہمیں ممنون بنانا چاہے کہ بالوں کے کاٹنے یا درست کرنے کے وقت مجھے یہ موقع ملا تھا کہ میں تمہارے سر یا گردن یا ناک پر استرا مار دیتا مگر میں نے یہ نیکی کی کہ نہیں مارا، تو کیا اس سے وہ ہمارا اعلیٰ درجہ کا محسن ٹھہر جائے گا اور والدین کے حقوق کی طرح اس کے حقوق بھی تسلیم کئے جائیں گے؟ نہیں بلکہ وہ ایک طور کے جرم کا مرتکب ہے جو اپنی ایسی صفات ظاہر کرتا ہے اور ایک دانش مند حاکم کے نزدیک ضمانت لینے کا لائق ہے۔غرض یہ کوئی اعلی درجہ کا احسان نہیں ہے کہ کسی نے بدی کرنے سے اپنے تئیں بچائے رکھا کیونکہ قانون سزا بھی تو اسے روکتا تھا۔مثلاً اگر کوئی شریر نقب لگانے یا اپنے ہمسایہ کا مال چرانے سے رک گیا ہے تو کیا اس کی یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ وہ اس شرارت سے باز رہ کر اس سے نیکی کرنا چاہتا تھا بلکہ قانون سزا بھی تو اسے ڈرا رہا تھا کیونکہ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اگر میں نقب زنی کے وقت یا کسی گھر میں آگ لگانے کے وقت یا کسی بے گناہ پر پستول چھوڑنے کے وقت یا کسی بچے کا گلا گھونٹنے کے وقت پکڑا گیا تو پھر گورنمنٹ پوری سزا دے کر جہنم تک پہنچائے گی۔غرض اگر یہی حقیقی نیکی اور انسان کا اعلیٰ جو ہر ہے تو پھر تمام جرائم پیشہ ایسے لوگوں کے محسن ٹھہر جائیں گے جن کو انہوں نے کوئی ضرر نہیں پہنچایا، لیکن جن بزرگواروں کو ہم انسان کامل کا خطاب دینا چاہتے ہیں کیا ان کی بزرگی کے اثبات کے لئے ہمیں یہی وجوہ پیش کرنے چاہئیں کہ کبھی انہوں نے کسی شخص کے گھر کو آگ نہیں لگائی ، چوری نہیں کی کسی بریگا نہ عورت پر حملہ نہیں کیا ، ڈاکہ نہیں مارا، کسی بچے کا گلا نہیں گھونٹا۔حاشا و گلایہ کمینہ باتیں ہرگز کمال کی وجوہ نہیں ہوسکتیں بلکہ ایسے ذکر سے تو ایک طور سے ہجو نکلتی ہے۔مثلاً اگر میں یہ کہوں کہ میری دانست میں زید جو ایک شہر کا معزز اور نیک نام رئیس ہے فلاں ڈا کہ میں شریک نہیں ہے یا فلاں عورت کو جو چند آدمی زنا کے لئے بہکا کر لے گئے تھے اس سازش سے زید کا کچھ تعلق نہ تھا تو ایسے بیان میں میں زید کی ایک طریق سے ازالہ حیثیت عرفی کر رہا ہوں کیونکہ پوشیدہ طور پر پبلک کو احتمال کا موقع دیتا ہوں کہ وہ اس مادہ کا آدمی ہے گو اس وقت شریک نہیں ہے۔پس خدا کے پاک نبیوں کی تعریف اس حد تک ختم کردینا بلا شبہ ان کی ایک سخت مذمت ہے اور اسی بات کو ان کا بڑا کمال سمجھنا کہ جرائم پیشہ لوگوں کی طرح نا جائز تکالیف عامہ سے انہوں نے اپنے تئیں بچایا ان کے مرتبہ عالیہ کی بڑی تک ہے۔اول تو بدی سے باز رہنا