حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 387 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 387

حیات احمد ۳۸۷ جلد پنجم حصہ اول بشپ صاحب نے اس دعوت کا کوئی جواب نہ دیا اور ۲۵ مئی ۱۹۰۰ء کو پھر اپنے سلسلہ تقاریر میں ”نبی معصوم اور زندہ رسول پر تقریر کی اس موقعہ کے لئے حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک اعجازی مضمون بالقائے ربانی لکھ دیا اس جلسہ کے متعلق یہ عجیب بات ہے کہ اس جلسہ میں مقابلہ کے لئے مسلمانوں نے مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کو بھی بلایا تھا جس کی مختصر کیفیت یہ ہے۔اور اس کا ثبوت اس وقت نہایت ہی واضح ہو گا جب ہم روئداد میں بشپ صاحب کی تقریر چھاپیں گے اور بقیہ حاشیہ سے بہت صاف اور سہل طریقہ پر نتیجہ نکل آئے گا کہ ان تمام فضائل میں سے فضائل کثیرہ کا مالک اور جامع کون ہے۔پس اگر ہماری بخشیں محض خدا کے لئے ہیں تو ہمیں وہی راہ اختیار کرنی چاہیے جس میں کوئی اشتباہ اور کدورت نہ ہو۔کیا یہ سچ نہیں ہے کہ معصومیت کی بحث میں پہلے قدم میں ہی یہ سوال پیش آئے گا کہ مسلمانوں اور یہودیوں کے عقیدہ کی رو سے جو شخص عورت کے پیٹ سے پیدا ہو کر خدایا خدا کا بیٹا ہونا اپنے تئیں بیان کرتا ہے وہ سخت گنہگار بلکہ کافر ہے تو پھر اس صورت میں معصومیت کیا باقی رہی اور اگر کہو کہ ہمارے نزدیک ایسا دعویٰ نہ گناہ نہ کفر کی بات ہے تو پھر اسی الجھن میں آپ پڑ گئے جس سے بچنا چاہیے تھا کیونکہ جیسا آپ کے نزدیک حضرت مسیح کے لئے خدائی کا دعویٰ کرنا گناہ کی بات نہیں ہے ایسا ہی ایک شاکت مت والے کے نزدیک ماں بہن سے بھی زنا کرنا گناہ کی بات نہیں ہے۔اور آریہ صاحبوں کے نزدیک ہر ایک ذرہ کو اپنے وجود کا آپ ہی خدا جانا اور اپنی پیاری بیوی کو با وجود اپنی موجودگی کے کسی دوسرے سے ہم بستر کرا دینا کچھ بھی گناہ کی بات نہیں۔اور سناتن دھرم والوں کے نزدیک راجہ رام چندر اور کرشن کو اوتار جاننا اور پر میشر ماننا اور پتھروں کے آگے سجدہ کرنا کچھ گناہ کی بات نہیں۔اور ایک گہر کے نزدیک آگ کی پوجا کرنا کچھ گناہ کی بات نہیں۔اور ایک فرقہ یہودیوں کے مذہب کے موافق غیر قوموں کے مال کو چوری کر لینا اور اُن کو نقصان پہنچا دینا کچھ گناہ کی بات نہیں اور بحجز مسلمانوں کے سب کے نزدیک سود لینا کچھ گناہ کی بات نہیں تو اب ایسا کون فارغ جج ہے کہ ان جھگڑوں کا فیصلہ کرے اس لئے حق کے طالب کے لئے افضل اور اعلیٰ نبی کی شناخت کے لیے یہی طریق کھلا ہے جو میں نے بیان کیا ہے اور اگر ہم فرض بھی کرلیں کہ تمام تو میں معصومیت کی وجوہ ایک ہی طور سے بیان کرتی ہیں یعنی اس بیان میں اگر تمام مذہبوں والے متفق بھی ہوں کہ فلاں فلاں امر گناہ میں داخل ہے جس سے باز رہنے کی حالت میں انسان معصوم کہلا سکتا ہے تو گو ایسا فرض کرنا غیر ممکن ہے تاہم محض اس امر کی تحقیق ہونے سے کہ ایک شخص شراب نہیں پیتا، رہزنی نہیں کرتا، ڈاکہ نہیں مارتا ، خون نہیں کرتا، جھوٹی گواہی نہیں دیتا، ایسا شخص صرف اس قسم کی معصومیت کی وجہ سے انسان کامل ہونے کا ہرگز مستحق نہیں ہو سکتا اور نہ کسی حقیقی اور اعلیٰ نیکی کا مالک ٹھہر سکتا ہے۔مثلاً اگر کوئی کسی کو اپنا یہ احسان جتلائے کہ باوجود یکہ میں نے کئی دفعہ یہ موقعہ پایا کہ تیرے گھر کو آگ لگادوں، اور تیرے شیر خوار بچے کا گلا گھونٹ دوں مگر پھر