حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 384
حیات احمد ۳۸۴ جلد پنجم حصہ اول اس مقام پر ہم مختصر ذکر کریں گے تا کہ ہمارے دوستوں کو اطلاع ہو جاوے۔بہر حال ۱۸ مئی ۱۹۰۰ ء کو لاٹ پادری صاحب نے اپنا لیکچر ختم کر لینے کے بعد مسلمانوں کو اعتراض کرنے کی دعوت کی اور نبی اسلام علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے غیرت اور سچا جوش جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا ہے اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود اور اس کی پاک جماعت کے لئے مقدر کر لیا ہوا ہے اور فتح اسلام اسی مبارک انسان کے ہاتھ پرلکھی جاچکی ہے۔بشپ صاحب کی اس دعوت پر ہمارے مکرم و معظم بھائی مفتی محمد صادق صاحب جو اپنے نام کی طرح صدق وصفا کے رنگ سے رنگین اور حضرت امام صادق کی محبت سے سرشار ہیں بشپ صاحب کی تقریر کا جواب دینے کے لئے کھڑے ہوئے۔بشپ صاحب کی تقریر ہم اسی مفصل روئداد میں چھاپیں گے لیکن اس کا خلاصہ وہی ہے جو برسوں پہلے ”نبی معصوم نام ایک رسالہ میں عیسائیوں نے لکھا ہے یعنی تمام انبیاء علیہم السلام معاذ اللہ گنہگار ہیں اور صرف مسیح گناہ سے پاک اور معصوم ہے یہ مسئلہ عیسائیوں کو اس لئے تراشنا پڑتا ہے کہ مسیح مصلوب کی صلیبی موت سے جو یہودیوں کے نزدیک لعنتی موت ہے فائدہ اٹھائیں اور اپنی سیاہ کاریوں کی لعنت مسیح پر تھوپ کر چین اڑائیں۔بشپ صاحب نے عیسائیوں کے عام مسلک پر اپنی طرف سے تمام مقدس راست بازوں اور خدا تعالیٰ کے مامور مرسلین کی تو ہین اور ہتک میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا اور سارا زور اور طاقت ان کے گنہگار ثابت کرنے میں صرف کیا اور مسیح کی (باوجودیکہ وہ خود نیک ہونے سے انکار کرتا ہے) عصمت پر زور دیا۔حضرت مفتی صاحب نے بشپ صاحب کی تقریر کا جواب دیا مفصل تو اسی روئیداد میں درج ہوگا مگر مختصر طور پر یوں ہے کہ مسیح کی عصمت پر زید و بکر کے حوالے دینا کوئی سودمند بات نہیں ہوسکتی یعنی لوقا یا مرقس کی کہی ہوئی باتیں مفید مطلب نہیں بہتر یہ ہے کہ خود مسیح کے اپنے منہ کے الفاظ دیکھے جاویں کہ وہ اپنی طہارت اور پاکبازی کی بابت کیا کہتا ہے۔اس پر مفتی