حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 368
حیات احمد ۳۶۸ جلد پنجم حصہ اول کی جیسا کہ ان کو عام معمول تھا کہ وہ سلسلہ کے کاموں میں مخالفت کرنا اور تشدد کرنا اپنا نصب العین سمجھتے تھے لیکن جب قادیان کے غیر احمدیوں نے بھی کہا کہ یہ مسجد کا معاملہ ہے ہم تمہارا ساتھ نہ دیں گے تو قضیہ ختم ہو گیا۔اس توسیع کے سلسلہ میں راقم الحروف أَمَّا بِنِعْمَتِ رَبِّكَ فَحَدِتْ کے ارشاد کی تعمیل میں اللہ تعالیٰ کے اس فضل کا ذکر کرتا ہے کہ مسجد کی توسیع میں جس زمین پر عمارت تعمیر ہوئی اس کے حاصل کرنے کی سعادت اسے ہی حاصل ہوئی۔وہ سخت مخالفین کے قبضہ میں تھی اور خاکسار کی سعی کو اللہ تعالیٰ نے بابرکت فرمایا اور وہ زمین خریدی گئی فَالْحَمْدُ لِلہ اس توسیع کے سلسلہ میں الحکم کا ایک نوٹ آج اپنے اندر ایک صداقت کا مظہر ہے۔جامع مسجد کے صحن کی تنگی اور نمازیوں کی کثرت اور ان کی تکالیف کو دیکھ دیکھ کر ہمارے امام ہمام نے جامع مسجد کی توسیع کا ارادہ فرمایا تھا اور ارادہ کے ساتھ ہی کوئی تین سو سے زائد رقم چندہ کی جمع ہوگئی تھی جس پر مسجد کی توسیع کا کام شروع کر دیا گیا اس کام کے لئے کوئی خاص اشتہار حضرت اقدس نے شائع کرنا ضروری نہیں سمجھا لیکن تاہم حضرت مولانا مولوی عبد الکریم صاحب سَلَّمُهُ رَبُّهُ نے قریباً کل احباب کو اس امر کی طرف توجہ دلا دی تھی اور اکثر جگہ سے چندہ آ بھی گیا اور مسجد کا کام بہت کچھ ہو بھی گیا اور بہت باقی ہے مسجد کے جنوبی پہلو میں ایک اور عمارت بڑھائی گئی ہے جو عند الضرورت عورتوں کیلئے نماز پڑھنے کے کام آئے گی اور محن قریباً پہلے سے دو چند ہو گیا ہے حضرت اقدس اب جبکہ مسجد کو دیکھتے ہیں تو نہایت مسرت اور انبساط ظاہر فرماتے ہیں۔دراصل مسلمانوں کی عظمت مذہبی کا یہی ایک نشان ہے اور اگر اس کی طرف بھی توجہ نہ کی جائے تو بیشک افسوس کی بات ہے اس کے پورے طور پر تیار ہونے میں کوئی تین ہزار روپیہ خرچ آئے گا۔ہماری جماعت دینی ضرورتوں سے خوب آگاہ ہے اس لئے ضرورت نہیں کہ لمبے چوڑے الفاظ میں ان کو بنائے مسجد کے فضائل اور برکات کا وعظ کرنے بیٹھیں صرف اتنا ہی لکھ دینا کافی ہے کہ مسجد کی وسعت کے کام کے واسطے وہ اپنے ایمانی جوش کے موافق چندہ دیں۔جہاں جہاں سے ابھی تک چندہ نہیں آیا ہے وہ لوگ متوجہ ہوں صحابہ کرام میں بھی عند الضرورت چندوں کی فہرستیں کھلتی تھیں اور ان کے چندوں کی انتہا یہ ہوتی تھی کہ جو کچھ جمع جتھا گھر