حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 341
حیات احمد ۳۴۱ جلد پنجم حصہ اول حاجت نہیں بلکہ وہ اپنے بچے پر ی بھگتوں کا آسان طریق سے جو ہم نے خود تجربہ کر کر دیکھ لیا ہے بہت جلد ملتا ہے انسان اگر اس کی طرف ایک قدم اٹھاتا ہے تو وہ دو قدم آتا ہے انسان اگر تیز چلتا ہے تو وہ دوڑ کر اس کے ہر دے میں پر کاش کرتا ہے۔میرے نزدیک مورتی بنانے والوں نے خدا تعالیٰ کی اس حکمت اور راز کو نہیں سمجھا جو اُس نے اپنے آپ کو بظاہر ایک حالت غیب میں رکھا ہے خدا تعالیٰ کا غیب میں ہونا ہی انسان کے لئے تمام تلاش اور جستجو اور کل تحقیقاتوں کی راہوں کو کھولتا ہے، جس قدر علوم اور معارف انسان پر کھلے ہیں وہ گو موجود تھے اور ہیں لیکن ایک ایک وقت میں وہ غیب میں تھے انسان کی سعی اور کوشش کی قوت نے اپنی چکار دکھائی اور گوہر مقصود کو پالیا جس طرح پر ایک عاشق صادق ہوتا ہے اس کے محبوب اور معشوق کی غیر حاضری اور آنکھوں سے بظاہر دور ہونا اس کی محبت میں کچھ فرق نہیں ڈالتا بلکہ وہ ظاہری ہجر اپنے اندر ایک قسم کی سوزش پیدا کر کے اس پریم بھاؤ کو اور بھی ترقی دیتا ہے اسی طرح پر مورتی لے کر خدا کو تلاش کرنے والا کب سچی اور حقیقی محبت کا دعویدار بن سکتا ہے جب کہ مورتی کے بدوں اس کی توجہ کامل طور پر اس پاک اور کامل حسن ہستی کی طرف نہیں پڑ سکتی انسان اپنی محبت کا خود امتحان کرے اگر اس کو اس سوختہ دل عاشق کی طرح چلتے پھرتے بیٹھتے اٹھتے غرض ہر حالت میں بیداری کی ہو یا خواب کی اپنے محبوب کا ہی چہرہ نظر آتا ہے اور کامل توجہ اسی طرف ہے تو سمجھ لے کہ واقعی مجھے خدا تعالیٰ سے ایک عشق ہے اور ضرور ضرور خدا تعالیٰ کا پر کاش اور پریم میرے اندر موجود ہے لیکن اگر درمیانی امور اور خارجی بندھن اور رکاوٹیں اس کی توجہ کو پھر اسکتی ہیں اور ایک لحظہ کیلئے بھی وہ خیال اس کے دل سے نکل سکتا ہے تو میں سچ کہتا ہوں کہ وہ خدا تعالیٰ کا عاشق نہیں اور اس سے محبت نہیں کرتا اور اسی لئے وہ روشنی اور نور جو بچے عاشقوں کو ملتا ہے اسے نہیں ملتا ہے۔یہی وہ جگہ ہے جہاں آکر اکثر لوگوں نے ٹھوکر کھائی ہے اور خدا کا انکار کر بیٹھے ہیں نادانوں نے اپنی محبت کا امتحان نہیں کیا اور اس کا وزن کئے بدوں ہی خدا پر بدظن ہو گئے ہیں۔پس میرے خیال میں خدا تعالیٰ کا غیب میں رہنا انسان کی سعادت اور رشد کو ترقی دینے کی خاطر ہے اور اس کی روحانی قوتوں کو صاف کر کے جلا دینے کیلئے تا کہ وہ نور