حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 332
حیات احمد اس کو لکھتے ہیں۔۳۳۲ جلد پنجم حصہ اول سوواضح ہو کہ مولوی محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السنہ نے میرے ذلیل کرنے کی غرض سے تمام لوگوں میں مشہور کیا تھا کہ یہ شخص مہدی معہود اور مسیح موعود سے منکر ہے اس لئے بے دین اور کافر اور دجال ہے بلکہ اسی غرض سے ایک استفتاء لکھا تھا اور علماء ہندوستان اور پنجاب کی اس پر مہریں ثبت کرا ئیں تھیں تا عوام مسلمان مجھ کو کا فرسمجھ لیں اور پھر اسی پر بس نہ کیا بلکہ گورنمنٹ تک خلاف واقعہ یہ شکایتیں پہنچا ئیں کہ یہ شخص گورنمنٹ انگریزی کا بدخواہ اور بغاوت کے خیالات رکھتا ہے اور عوام کے بیزار کرنے کیلئے یہ بھی جا بجا مشہور کیا کہ یہ شخص جاہل اور علم عربی سے بے بہرہ اور ان تینوں قسم کے جھوٹ کے استعمال سے اس کی غرض یہ تھی کہ تا عوام مسلمان مجھ پر بدظن ہو کر مجھے کافر خیال کریں اور ساتھ ہی یہ بھی یقین کر لیں کہ یہ شخص در حقیقت علم عربی سے بے بہرہ ہے اور نیز گورنمنٹ بدظن ہو کر مجھے باغی قراردے یا اپنا بدخواہ تصور کرے۔جب محمد حسین کی بداندیشی اس حد تک پہنچی کہ اپنی زبان سے بھی میری ذلت کی اور لوگوں کو بھی خلاف واقعہ تکفیر سے جوش دلایا اور گورنمنٹ کو بھی جھوٹی مخبریوں سے دھوکہ دینا چاہا اور یہ ارادہ کیا کہ وجوہ متذکرہ بالا کو عوام اور گورنمنٹ کے دل میں جما کر میری ذلت کراوے تب میں نے اس کی نسبت اور اس کے دو دوستوں کی نسبت جو محمد بخش جعفر زٹلی اور ابوالحسن تبتی ہیں وہ بددعا کی جو اشتہار ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء میں درج ہے اور جیسا کہ اشتہار مذکور میں میں نے لکھا ہے یہ الہام مجھ کو ہوا۔اِنَّ الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ سَيَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبَّهِمْ ضَرْبُ اللهِ اَشَدُّ مِنْ ضَرْبِ النَّاسِ۔إِنَّمَا أَمْرُنَا إِذَا أَرَدْنَا شَيْئًا أَنْ نَّقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونَ۔أَتَعْجَبُ لَامُرِى إِنِّي مَعَ الْعُشَّاقِ، إِنِّي أَنَا الرَّحْمَنُ ذُو الْمَجْدِ وَالْعُلى وَيَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَى يَدَيْهِ۔وَيُطْرَحُ بَيْنَ يَدَيَّ۔جَزَاءُ سَيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا وَتَرْهَقُهُمُ ذِلَّةٌ۔مَالَهُم مِّنَ اللهِ مِنْ عَاصِمٍ۔