حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 328 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 328

حیات احمد ۳۲۸ جلد پنجم حصہ اول ترکی گورنمنٹ کے شیرازہ میں ایسے دھاگے بھی ہوں جو وقت پر ٹوٹنے والے اور غذاری سرشت ظاہر کرنے والے ہوں“۔یادر ہے کہ ابھی میں اشتہا ر ۲۴ رمئی ۱۸۹۷ء کے حوالہ سے بیان کر چکا ہوں کہ یہ غداری اور نفاق کی سرشت بذریعہ الہام الہی حسین یک کامی میں معلوم کرائی گئی ہے۔غرض میرے ان اشتہارات میں جس قدر پیشگوئیاں ہیں جو میں نے اس جگہ درج کر دی ہیں ان سب سے اوّل مقصود بالذات حسین کامی مذکور تھا۔ہاں یہ بھی پیشگوئی سے مفہوم ہوتا تھا کہ اس مادہ کے اور بھی بہت سے لوگ ہیں جو سلطنت روم کے ارکان اور کارکن سمجھے جاتے ہیں۔مگر بہر حال الہام کا اول نشانہ یہی شخص حسین کامی تھا جس کی نسبت ظاہر کیا گیا کہ وہ ہر گز امین اور دیانت دار نہیں اور اس کا انجام اچھا نہیں جیسا کہ ابھی میں نے اپنے اشتہار ۲۴ مئی ۱۸۹۷ء کے حوالہ سے لکھا ہے کہ حسین کامی کی نسبت مجھے الہام ہوا ہے کہ یہ آدمی سلطنت کے ساتھ دیانت سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ اس کی سرشت میں نفاق کی رنگ آمیزی ہے اور اُسی کو میں نے مخاطب کر کے کہا تو بہ کرو تا نیک پھل پاؤ“۔یہ تو میرے الہامات تھے جو میں نے صاف دلی سے لاکھوں انسانوں میں بذریعہ اشتہا ر ۲۴ رمئی ۱۸۹۷ء اور اشتہار ۲۵ جون ۱۸۹۷ء شائع کر دیئے۔مگر افسوس کہ ان اشتہارات کے شائع کرنے پر ہزارہا مسلمان میرے پر ٹوٹ پڑے۔بعض کو تو قلت تذبر کی وجہ سے یہ دھو کہ لگا کہ میں نے سلطان روم کی ذات پر کوئی حملہ کیا ہے حالانکہ وہ میرے اشتہارات اب تک موجود ہیں۔سلطان کی ذات سے اُن پیشگوئیوں کو کچھ تعلق نہیں صرف بعض ارکان سلطنت اور کارکن لوگوں کی نسبت الہام شائع کیا گیا ہے کہ وہ امین اور دیانت دار نہیں ہیں۔اور کھلے کھلے طور پر اشارہ کیا گیا ہے کہ اوّل نشانہ اُن الہامات کا وہی حسین کامی ہے اور وہی دیانت اور امانت کے پیرا یہ سے محروم اور بے نصیب ہے۔اور ان اشتہاروں کے شائع ہونے کے بعد بعض اخبار والوں نے حسین کامی کی حمایت میں میرے پر حملے کئے کہ ایسے امین اور امانت دار کی نسبت یہ