حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 314
حیات احمد ۳۱۴ جلد پنجم حصہ اول دوسرے چبوترے کی طرف جو کسی قدر فاصلے پر تھا جانے لگا اور اس چبوترے پر ایک وجیہ خوبصورت آدمی فاخرہ لباس پہنے ہوئے سلح بیٹھا ہوا تھا جس سے میں مصافحہ کرنا چاہتا تھا مگر راستہ میں سے ہوا رسول مقبول ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کر واپس کر لیا اور میرا ہاتھ پکڑے ہوئے اپنے پاس بٹھا لیا اور فرمایا کہ یہ معاویہ ہے۔خواب سوم۔ایک دن میں نے دیکھا کہ میدانِ قیامت ہے اور جہاں تک نظر کام دیتی ہے مخلوق خدا پریشان نظر آتی ہے اور حضرت اقدس مرزا صاحب علیہ الصلوۃ والسلام قرآن کریم ہاتھ میں لے کر سب کو مخاطب کر کے طلب فرما رہے ہیں کہ تم نے اس کلام پاک کی تکذیب کی اب حضور رسول مقبول ﷺ تشریف لاتے ہیں اور میں اس کلام اللہ کو پیش کروں گا۔اس وقت تمام مخلوق سخت کرب و اضطراب میں نہایت بے تابانہ حالت سے چلا چلا کر رو رہی تھی جو دیکھا کہ مشرق کی طرف سے ایک عظیم الشان جماعت آئی جن کے چہرے نورانی ہیں ان میں ہمارے آقا و مولیٰ سید العالم محمد مصطفی ملے جلوہ گر ہیں ان کو دیکھ کر مرزا صاحب ان کے پاس گئے اور مل کر کھڑے ہو گئے اور میں مرزا صاحب سے ذرا پیچھے کھڑا ہوا، پھر مزرا صاحب نے رسول مقبول ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ یہ حضور کی امت ہے یا کہا کہ آدمی ہیں جنہوں نے اس قرآن کریم کی تکذیب کی ہے اور میری بھی۔اس وقت دیکھا کہ بڑا شور تمام مخلوق میں ہے اور بہت ہی مضطرب الحال ہیں پھر مرزا صاحب نے قرآن کریم کو رسول مقبول ﷺ کو دے دیا اور شفاعت کے لئے سفارش کی اسی اثنا میں پُر ہول رُعب ناک پر ہیبت آواز میں سنا۔حساب۔یہ سُن کر سب بیہوش ہو کر گر پڑے اور حضرت مرزا صاحب اور شَفِيْعُ الْمُذْنِبِين رَحْمَةٌ لِلعَالَمِيْن خَاتَمَ النَّبيين محمد رسول الله ﷺ فَدَاهُ أَبِي وَأُمِّي دونوں سجدے میں گر کر نہایت تضرع سے دعا کرنے لگے پھر بہت عرصہ کے بعد ہر دو خادم و مخدوم نے سراٹھایا اور آقا ومولا رسول خدا ﷺ نے نہایت انبساط اور خوشی سے ہنستے ہوئے کچھ مرزا صاحب سے فرمایا ، جس سے مرزا صاحب بھی بہت خوش ہوئے پھر مرزا صاحب نے نہایت خوشی سے ہنس کر مجھ کو خوشخبری دی کہ خداوند کریم نے تم کو بخش دیا۔مبارک ہو میں آنکھ کھلنے پر بہت دیر تک اس کا اثر