حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 313
حیات احمد ۳۱۳ جلد پنجم حصہ اوّل بہت مضطرب ہوں اسی اثنا میں دیکھتا ہوں کہ حضرت اقدس جناب مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود تشریف لائے اور پھر آپ نے میرے شوق اور اضطراب کو دیکھ کر نہایت شفقت اور محبت سے میری بغلوں میں ہاتھ ڈال کر مجھے کو اٹھانا چاہا تو کا ایک وہ جالیاں نیچے ہوگئیں پھر میں بلا تکلف ان سے روضہ منورہ کی زیارت کرنے لگا میں نے دیکھا کہ تین قبریں ہیں بوجہ انتہا درجہ نور کے تمام قبه بُقع نُور معلوم ہوتا تھا بلکہ نور ہی نور نظر آتا تھا اس وقت میں شوق میں جھوم جھوم کر الصَّلوةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ۔اَلصَّلَوةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا حَبِيبَ اللہ پڑھتا ہوں اور روتا ہوں جو ایک عاشقانہ حالت ہے آنکھ کھلنے پر میری زبان پر اسی کا ورد تھا اور نہایت ہی سرور میں تھا۔خواب دوم۔جب میں حضرت مرزا صاحب علیہ الصلوۃ والسلام سے مشرف بہ بیعت ہوا اس سے کچھ عرصہ کے بعد ایک ایسی دولت یقین اور معرفت اور تازگی روح کا باعث ہے میں وہ لذت وسرور تحریر میں نہیں لاسکتا جو مجھ کو برکت وطفیل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حاصل ہوا میں نے دیکھا کہ دو چبوترہ نہایت خوبصورت اور خوش نما زمین سے بلند بطور قبر کے بنے ہوئے ہیں ایک چبوترہ پر خوشنما سائبان ہے جس کے قریب میرے ایک بھائی حاجی عبدالغنی صاحب سر بزانور کھے ہوئے بیٹھے ہیں اور میں فاصلہ پر کھڑا ہوں اسی حالت میں دیکھا کہ حضرت اقدس جناب مرزا صاحب علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے اور نہایت محبت سے میرا ہاتھ اپنے دست مبارک پر پکڑ کر فرمایا کہ آؤ تم کو سرور کائنات حضور رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر کریں پھر حضرت مرزا صاحب مجھ کو سائبان والے چبوترہ پر لے گئے وہاں جا کر دیکھا کہ رسول مقبول یہ کچھ اوڑھے ہوئے لیٹے ہیں آپ مرزا صاحب کو دیکھ کر بیٹھ گئے میں نے دیکھا کہ آپ خندہ پیشانی ہیں۔مرزا صاحب نے مجھ کو آنجناب عﷺ کی خدمت میں پیش کر کے مجھ کو فرمایا یہ سرور کائنات سرور الانبیاء محمد رسول اللہ علیہ ہیں پھر میں حضور کے قریب بیٹھ گیا اور رسول اللہ ﷺ نے میرا داہنا ہاتھ اپنے دست مبارک میں لے کر محبت بھرے الفاظ سے ایک نہایت ہی مختصر فقرہ عربی کا فرمایا مگر افسوس ہے کہ وہ مجھے یاد نہیں رہا اس کا مطلب یہ تھا کہ تمام برائیوں سے پر ہیز کرنا اور تمام نیکیوں کو اختیار کرنا پھر اس کے بعد اس