حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 311
حیات احمد ۳۱۱ جلد پنجم حصہ اول گواہ واقعہ کی حیثیت رکھتا تھا اور اس نے ایک تصدیقی تحریر بھی عزیز الواعظین کو دی تھی انہیں اشاعت اسلام اور مخالفین کے اسلام کے اعتراضوں کے جوابات دینے کا جوش تھا رسالہ انوارالاسلام سیالکوٹ میں اکثر ان کے مضامین شائع ہوتے تھے ی وہ قادیان میں دو مرتبہ آئے تھے نہایت دبلے پتلے بزرگ تھے چھوٹا قد تھا گویا دوسرے حضرت منشی ظفر احمد تھے انہوں نے بیان کیا کہ حضرت منشی وزیر خاں صاحب ان کے خاص احباب میں سے تھے ان کی زندگی کا بڑا حصہ برما اور منی پور وغیرہ میں ہی گزرا تھا۔خود منشی وزیر خاں صاحب کو بھی ان سے بڑا اخلاص تھا اور وہ ان کے ملہمات اور کشوف کے گواہ تھے حضرت غلام امام صاحب ایک متقی اور کسب حلال کی روزی کھاتے تھے اور اسی میں سے سلسلہ کی خدمت کرتے تھے۔سلسلہ کی تمام کتب خریدتے اور اخبارات سلسلہ کے باقاعدہ خریدار تھے اور ہر قسم کی تحریکوں پر سلسلہ کے لئے سابقون میں ہوتے تھے۔غرض ایک نمونے کے صحابی تھے انہوں نے فرمایا جس کا مفہوم یہ تھا کہ ”میں نے بارہا حضرت نبی کریم ﷺ کور کیا میں دیکھا اور حضور نے حضرت مرزا صاحب کی صداقت کی تائید فرمائی اور رویا ہی میں میں نے حضرت اقدس کو بارہا دیکھا قادیان آنے سے پیشتر “ (۳) آخر میں حضرت منشی ظفر احمد صاحب کی شہادت درج کر دیتا ہوں۔حضرت منشی صاحب کے متعلق حضرت اقدس نے ازالہ اوہام میں تحریر فرمایا۔یہ جوان صالح کم گو اور خلوص سے بھرا ہوا دقیق فہم آدمی ہے۔استقامت کے آثار وانوار اُس میں ظاہر ہیں۔وفاداری کی علامات وامارات اس میں پیدا ہیں۔ثابت شده صداقتوں کو خوب سمجھتا ہے اور ان سے لذت اٹھاتا ہے۔اللہ اور رسول سے کچی محبت رکھتا ہے اور ادب جس پر تمام مدار حصول فیض کا ہے اور حسن ظن جو اس راہ کا مرکب ہے دونوں سیر تیں اس میں پائی جاتی ہیں۔جَزَاهُمُ اللَّهُ خَيْرَ الْجَزَاءِ (ازالہ اوہام صفحه ۸۰۰ - روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۳۳،۵۳۲) ی حاشیہ۔میں نے ان کے مضامین کا پورا فائل رکھا ہوا تھا کہ ان کی سیرت کے سلسلہ میں شائع کروں گا۔مگر افسوس اور دکھ کے ساتھ لکھتا ہوں کہ میرے کتب خانہ کو لوٹنے والوں نے معلوم نہیں کیا حشر کیا۔( عرفانی )