حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 309
حیات احمد ۳۰۹ جلد پنجم حصہ اوّل بخدمت شریف حضرت امام زمان بعد از السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ معروض کہ میں کوٹھہ علاقہ یوسف زئی کو گیا تھا اور چونکہ سنا ہوا تھا کہ حضرت صاحب مرحوم کو ٹھہ والے فرماتے تھے کہ مہدی آخر الزمان پیدا ہو گیا ہے مگر وقت ظہور ابھی نہیں ہے۔تو اس بات کا مجھے بہت خیال تھا کہ اس امر میں تحقیق کروں کہ فی الواقع کس طرح ہے۔جب میں اس دفعہ کوٹھہ کو گیا تو اُن کے مریدوں میں سے جو کوئی باقی ماندہ ہیں ہر ایک سے میں نے استفسار کیا۔ہر ایک یہی کہتا تھا کہ یہ بات مشہور ہے ہم نے فلاں سے سنا تھا ، فلاں آدمی نے یوں کہا۔حضرت صاحب یہ بیان فرماتے تھے۔مگر دو ۲ آدمی ثقہ متدین نے اس طرح کہا کہ ہم نے خود اپنے کانوں سے حضرت کی زبان مبارک سے سنا ہے اور ہم کو خوب یاد ہے ایک حرف بھی نہیں بھولا۔اب ہر ایک کا بیان بعینہ عرض خدمت کرتا ہوں۔(() ایک شخص حافظ قرآن نور محمد اصل متوطن گڑھی امازی حال از کوٹھہ بیان کرتا ہے کہ حضرت ایک دن وضو کرتے تھے اور میں روبرو بیٹھا تھا فرمانے لگے کہ ہم اب کسی اور کے زمانہ میں ہیں میں اس بات کو نہ سمجھا اور عرض کیا کہ کیوں حضرت آپ اس قدر معمر ہو گئے ہیں کہ اب آپ کا زمانہ چلا گیا ابھی تو آپ کے ہم عمر لوگ بہت تندرست ہیں۔اپنے کام دنیوی کرتے ہیں۔فرمانے لگے کہ تو میری بات کو نہیں سمجھا میرا مطلب کچھ اور ہے۔پھر فرمانے لگے کہ جو خدا کی طرف سے ایک بندہ تجدید دین کے لئے مبعوث ہوا کرتا ہے وہ پیدا ہو گیا ہماری بار چلی گئی۔میں اس لئے کہتا ہوں کہ ہم کسی غیر کے زمانہ میں ہیں۔پھر فرمانے لگے وہ ایسا ہوگا۔مجھ کو تو کچھ تعلق مخلوق سے بھی ہے اُس کو کسی کے ساتھ تعلق نہ ہو گا۔اور اس پر اس قدر شداید مصائب آویں گے کہ جن کی نظیر زمانہ گزشتہ میں نہ ہوگی مگر اس کو کچھ پرواہ نہ ہوگی اور سب طرح کی تکالیف اور فساد اس وقت میں ہوں گے اُس کو پرواہ نہ ہوگی۔زمین آسمان ہل جاویں گے اور الٹ پلٹ ہو