حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 289 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 289

حیات احمد ۲۸۹ جلد پنجم حصہ اوّل کرتا ہوں کہ مجھ کو یہ الہام اور رویا کی دولت محض حضرت مرزا صاحب ایدہ اللہ کے خدا تعالیٰ کی طرف سے ملی ہے اور صرف اسی امام برحق کے قدموں میں حاضر ہونے کی وجہ سے یہ شرف بخشا گیا ہے۔میں ان فیوض و برکات کو جو حضرت مسیح موعود کے سلسلہ پاک میں داخل ہونے سے شامل حال عاجز ہوئے ہیں بیان نہیں کر سکتا وہ الہامات اور رویا جو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس عاجز پر وارد ہوئے یا اب ہوتے ہیں سلسلہ وار اور تاریخ وار میری کتاب یادداشت میں قلمبند موجود ہیں۔میں اس مالک حقیقی کے حضور میں اپنے اس پاک تعلق کے قائم ہو جانے پر وہ سرور پاتا ہوں کہ بیان نہیں کر سکتا میرے مالک سے میرا یہ تعلق ماہ جنوری ۱۸۸۸ء سے شروع ہوا ہے اور اس وقت سے اب تک برابر مجھ کو حضرت مرزا صاحب کے امام برحق ہونے کے کھلے کھلے نشان ملے ہیں۔میں نے آپ کے مراتب روحانی کو جو دربار رسول مقبول ﷺ میں آپ کو حاصل ہیں بار ہا کئی رویا میں مشاہدہ کیا ہے اور مجھے دکھلایا گیا ہے آپ کی اس شان کو جو عالم بالا میں آپ کو حاصل ہے۔میں اگر ان سب مشاہدات کو یکجا کروں تو ایک کتاب ہو جائے مگر چونکہ اس وقت میں نے اس اشتہار کومخلوق خدا کے سامنے صرف اس امر کے لئے پیش کرنا ہے کہ حضرت مسیح موعود کے امام برحق ہونے پر سچی شہادت ادا کروں اس لئے میں ان مشاہدات میں سے جو کل الہامات اور روڈ یا کومل کر تخمینا دو ہزار پانچ سو سے زائد ہیں اور میری کتاب یادداشت میں بقید تاریخ مسلسل درج ہیں بار رویا سال رواں کے اندراج سے بطور نمونہ درج کرتا ہوں۔میں امید کرتا ہوں کہ مخلوق خدا میری اس تحریر کوامام آخر الزمان حضرت مسیح موعود و مہدی وقت مجد ددور ان کے حق میں ان کی صداقت اور منجانب اللہ ہونے پر ایک شہادت تصور کرے گی اور مجھے بجائے خود بھی اس مبارک موقعہ کے مل جانے پر اداء شکر حق کا محل ہے کہ میں اس بچی شہادت کو جو محض خدا کے واسطے ہے ادا کر کے ایک فرض سے سبکدوش ہوا ہوں۔ـعبــ خاکسار سید امیر علی شاہ ولد سید بہار شاہ ساکن سیدانوالی تحصیل سیالکوٹ ضلع سیالکوٹ