حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 287
حیات احمد ۲۸۷ جلد پنجم حصہ اول کرے کہ حق پر کون ہے مگر یہ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ کی تائیدی شہادتوں سے ہمیشہ ثابت کر دیا کہ کوئی مقابلہ پر نہیں آیا چنانچہ آپ نے فرمایا اور شایع کیا۔چه بیست با بداند این جوان را که ناید کس بمیدان محمد برخلاف اس کے اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس کے خدام کو بھی اس نعمت سے نوازا اور جماعت میں بکثرت ایسے لوگ پیدا ہو گئے جن کو شرف مکالمات اور رویائے صالحہ کی نعمت سے نوازا اور انہوں نے اپنے کشوف والہامات کے ذریعہ آپ کی تصدیق کی اور میں یہاں ان میں سے بعض کے اعلانات کو درج کرتا ہوں اور یہ اعلانات نصف صدی سے زائد عرصہ پیشتر شایع کئے گئے اور کوئی ان کے مقابلہ میں نہ آیا اور اگر کسی نے شیطانی الہامات کا ذکر کیا تو حضرت کی زندگی میں فوت ہو گیا۔میں نے ۱۰ اکتوبر ۱۸۹۹ء کے الحکم میں ایسے ملہمین کو ایسے الہامات اور مکاشفات شائع کرنے کی دعوت دی تھی اور خصوصیت سے منشی الہی بخش اکو نٹمنٹ کو خطاب کیا تھا کہ وہ اور ان کے گہرے دوست ان مخالف الہامات کو شایع کرنے میں دیر نہ کریں جو ان کو ہمارے سید ومولی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف ہوئے ہیں مگر صدائے برنخاست کا معاملہ رہا، آخر عصائے موسیٰ نام کتاب ایک عرصہ کے بعد شائع کی جس کا ذکر اپنے موقعہ پر آوے گا اور اس کی اشاعت کے بعد جلد طاعون میں مبتلا ہو کر فوت ہو گیا۔غرض جماعت کے بعض ملہمین نے اپنے مکاشفات وغیرہ کی اشاعت کی ان میں سے بعض درج ذیل ہیں۔ترجمہ۔اس جوان کو کس قدر رعب دیا گیا ہے کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے میدان میں کوئی بھی ( مقابلہ پر ) نہیں آتا۔