حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 282
جلد پنجم حصہ اول حیات احمد ۲۸۲ جو بصرے اور بغداد کے درمیان ہے اُر میں لنڈن کے میوزیم کی طرف سے ایک جماعت ماہرین علم الآثار کی کام کر رہی ہے اس جماعت کے انچارج نے ہم کو بتلایا کہ ایسے آثار برآمد ہوئے ہیں جن سے یہ پتہ چلا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جو اسی شہر میں پیدا ہوئے تھے اور اُس وقت یہی مقام بت پرستی کا بہت بڑا مرکز تھا اس جگہ سے جب وہ مصر کی طرف گئے ہیں تو نصیبین کے راستے سے گئے ہیں گویا ان کے سفر کا نقشہ یوں تھا۔تصييين کرکوک بغداد خلیج فارس یہ میں نہیں کہ سکتا کہ بغداد سے کس راستے سے گئے۔کیوں کہ اس وقت دور استے موجود ہیں مگر غالب یہ ہے کہ وہ کرکوک کے راستے گئے بہر حال آثار قدیمہ جو ار سے مل رہے ہیں وہاں سے پرانے حجرِی وثیقے اس پر شہادت دیتے ہوئے ملے ہیں کہ حضرت ابرا ہیم نصیبین کے راستے مصر کی طرف چلے گئے۔پس اس تاریخی ثبوت نے نصیبین کی عمر کو حضرت ابراہیم کے زمانے سے بھی آگے لیجا کر کھڑا کر دیا اب اس امر پر بحث نہیں رہ سکتی کہ نصیبین کا قصبہ تو حضرت مسیح کے زمانے میں تھا ہی نہیں پھر وہ وہاں سے کیسے گزرے ہوں گے۔نصیبین ہی نقطہ اتصال ہوسکتا ہے ان مقامات کی سیر کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نصیبین ایک ایسا مرکز ہے جو ہر آنے اور جانے والے کے لئے نقطہ اتصال ہے جب ہم نقشہ میں غور سے دیکھتے ہیں تو دیار بکر کی طرف سے