حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 281
حیات احمد ۲۸۱ جلد پنجم حصہ اول یہاں جن بڑے لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ نصیبین کے رہنے والے تھے پس اس سے اس قدر ثابت ہو گیا کہ ایک بستی آج سے تیرہ سو سال قبل دنیا میں موجود تھی اور اس کا نام نصیبین تھا۔لیکن صرف یہ ثابت ہو جانے سے ہمارا کام نہیں بنتا کیونکہ جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ یہ قصبہ اس سے قبل بھی حضرت مسیح کے زمانہ میں موجود تھا اس وقت تک نصیبین اس سفر کا نقطہ مرکز یہ قرار نہیں دیا جاتا سواس امر کے لئے ایک دلیل یہ ہے کہ جیسے اس دنیا کی ہر چیز ایک ابتدائی حالت سے ترقی کر کے ایک مکمل حالت تک پہنچنے میں وقت صرف کرتی ہے اسی طرح تمدن انسانی کے لئے بھی دور ہوتے ہیں اور کئی سو سال کے بعد اپنے عروج کو پہنچتا ہے پس کسی قصبہ کے بننے کے ساتھ اس کا اپنے عروج کو پہنچ جانا درست نہیں ہو سکتا۔اور خصوصاً جس زمانہ کی ہم بحث کر رہے ہیں وہ زمانہ آج کی طرح سے تمام قسم کے وسائل راحت اور مواصلات سے خالی تھا۔اس لئے نصیبین کے لوگوں کا اس حالت تک پہنچنے کے لئے کہ وہ دن کہلا سکیں کچھ مدت کا وقفہ درکار ہونا نہایت ضروری ہے جیسے انسان کی ترقی سالوں میں ہوتی ہے ایسے ہی قوم کا بننا اور شہروں کی ترقیات صدیاں لے لیتی ہیں اس لئے ہم کو رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے او پر کئی سو سال جانا اور ماننا پڑے گا کہ کئی صدی پیشتر سے یہ قصبہ آباد تھا۔اگر یہ کہہ لیا جائے کہ چھ سو سال پیشتر یعنی حضرت مسیح کے زمانے سے آباد تھا تو میرے نزدیک کوئی تعجب کی بات نہ ہوگی۔لیکن مخالف اگر اس اصل کو تسلیم بھی کرلے تو بھی اسے حضرت مسیح کے زمانے تک اس کی قدامت لانے میں قائل نہ ہو گا اس لئے اس امر کو کلی طور پر ثابت کرنے کے لئے ضروری ہوگا کہ کوئی ایسی دلیل پیش کی جائے جو نصیبین کی عمر کو حضرت مسیح سے پیشتر تک لے جائے۔نصیبین کی قدامت آثارِ قدیمہ سے پس خدا تعالیٰ کی حمد اور شکر ہے کہ جس نے ایک ایسی زبر دست دلیل پیدا کر دی ہے جس کا توڑنا ناممکن ہو گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ عراق میں بہت سے مقامات ایسے ہیں جو آثار قدیم پر ہیں۔ایران آشوری کلدان حکومتوں کے کھنڈرات زمین میں اب تک موجود ہیں اور یورپ کے ماہرین علم الآثار ان کو کھود کر زمین کے مخفی علوم نکال رہے ہیں انہی مقامات میں سے اُر ایک جگہ ہے