حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 13 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 13

حیات احمد ۱۳ جلد پنجم حصہ اول اس قسم کے کام بغیر اخلاص کے ممکن نہیں اور کوئی اپنی طبیعت پر جبر کر کے اس قسم کے کاموں میں ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔جس شوق سے مولانا مولوی عبدالکریم صاحب کو میں نے یہ کام کرتے دیکھا ہے رشک اور حیرت آتی ہے اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے اور ہم سب کو تو فیق۔چنانچہ ۱۸۹۸ء کے آخری حصہ میں خصوصیت سے مولوی صاحب ممدوح کو ہی یہ فخر حاصل رہا کہ وہ ڈاک کا جواب دیں۔اور خطوط کی تعمیل کریں۔ان خطوط میں بہت سے رجسٹرڈ ہو کر جاتے ہیں اور علی العموم آدھ آنے کے لفافوں میں اس خرچ کا اندازہ بھی اگر تخمیناً کیا جاوے تو دوسوروپیہ سال سے کیا کم ہوسکتا ہے۔یہ شاخ بھی ان پنجگانہ شاخوں میں سے ہے جن کا تذکرہ حضور نے فتح اسلام میں فرمایا۔مہمانوں کی آمد ورفت ایک سلسلہ مہمانوں کی آمد کا ہے جس ذریعہ سے اکثر لوگ آ کر اپنے خیالات کی اصلاح کرتے ہیں اور وہ فیض اور فائدہ اٹھاتے ہیں۔جو جناب سیدنا مرزا صاحب أَيَّدَهُ اللهُ الْاَحد کے نزول سے اللہ تعالیٰ نے مقصود رکھا ہے پچھلے سالوں میں مہمانوں کی اس قدر کثرت نہیں تھی جس قدر لوگ اس سال میں آئے یہ تعداد بھی سال بھر میں ڈیڑھ ہزار سے کسی صورت میں کم نہیں رہی جن کی مہمانداری پر ایک کثیر رقم خرچ آتی ہے ہم کو بار بار حیرت آتی ہے کہ کیا مخالف بالکل اندھے اور بہرے ہو گئے کہ وہ اس قدر کثرت کے ساتھ نشانات دیکھتے ہیں جو راستباز کی عظمت کو قائم کرتے ہیں لوگوں کی آمدورفت کے سلسلہ کا اس قدر وسیع ہونا کیا منصوبہ باز کو میسر آسکتا ہے اور پھر ایسی حالت میں کہ وہ وَسِعُ مَكَانَكَ يَأْتُونَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ کی پیشگوئی بھی کر چکا ہو۔لاریب یہ خدا کے کام ہیں جو صادقوں کی دلیل ٹھہرتے ہیں۔پھر آنے والے لوگوں میں معمولی کم حیثیت کے لوگ نہیں بلکہ مولوی۔حافظ۔تاجر۔گورنمنٹ کے معزز اور مقتدر عہدہ دار۔بڑے بڑے اہل الرائے اصحاب اور تعلیم یافتہ گروہ ہے۔جلسہ سالانہ تیسرا جلسہ وہ سالانہ جلسہ ہے جس کی یہ رپورٹ ہے۔یہ جلسہ ۲۵ / دسمبر ۱۸۹۷ء سے شروع ہو کر یکم جنوری ۱۸۹۸ء تک رہا۔اس جلسہ میں دور دراز کے احباب شریک تھے جن کی