حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 273 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 273

حیات احمد ۲۷۳ جلد پنجم حصہ اول مندرجہ بالا اعلان کے بعد آپ نے اس جلسہ الوداع کے لئے ۱۰ را کتوبر ۱۸۹۹ء کو مندرجہ ذیل اعلان شائع کیا۔تا در آن یار مراد خیز تا در کے طلبية كادير شینیم دلشادے بر در دوست دیرگا است که بینیم زمین پر ز فساد بہ کہ بادست دعا صدق وسداد علیم جلسة الوداع (ضمیمہ اشتہار الانصار ۴ اکتوبر ۱۸۹۹ء) ہم اس اشتہار میں لکھ چکے ہیں کہ ہماری جماعت میں سے تین آدمی اس کام کے لئے منتخب کئے جائیں گے کہ وہ نصیبین اور اس کے نواح میں جاویں اور حضرت عیسی علیہ السلام کے آثار اس ملک میں تلاش کریں۔اب حال یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے سفر کے خرچ کا امر قریباً انتظام پذیر ہو چکا ہے صرف ایک شخص کی زادِ راہ کا انتظام باقی ہے یعنی اخویم مگر می مولوی حکیم نورالدین صاحب نے ایک آدمی کے لئے ایک طرف کا خرچ دے دیا ہے اور اخویم منشی عبدالعزیز صاحب پٹواری ساکن او جله ضلع گورداسپور نے باوجود قلت سرمایا کے ایک سو پچپین روپیہ دیئے ہیں اور میاں جمال الدین کشمیری ساکن سیکھواں ضلع گورداسپورہ اور ان کے دو برادر حقیقی میاں امام الدین اور میاں خیر الدین نے پچاس روپیہ دیئے ہیں۔ان چاروں صاحبوں کے چندہ کا معاملہ نہایت عجیب اور قابلِ رشک ہے کہ وہ دنیا کے مال سے نہایت ہی کم حصہ رکھتے ہیں گویا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طرح جو کچھ گھروں میں تھا وہ سب لے آئے ہیں اور دین کو دنیا پر مقدم کیا جیسا کہ بیعت میں شرط تھی ایسا ہی مرزا خدا بخش صاحب نے اس سفر خرچ ا ترجمہ۔اٹھواس محبوب کے در سے اپنی مراد مانگیں، دوست کے دروازہ پر دھونی رمائیں اور کشائش طلب کریں۔کے مدتوں سے ہم زمین کو فساد سے بھرا ہوادیکھتے ہیں بہتر یہی ہے آؤ ہم دعا مانگ کر صدق اور راستی طلب کریں۔