حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 271 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 271

حیات احمد ۲۷۱ جلد پنجم حصہ اوّل یوز آسف نبی کی قبر کہتے ہیں ۷ ارستمبر ۱۸۹۹ء کو واپس میرے پاس پہنچ گئے۔سوکشمیر کا مسئلہ تو خاطر خواہ انفصال پا گیا اور پانچ سو چھپن شہادت سے ثابت ہو گیا کہ درحقیقت یہ حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر ہے کہ جوسری نگر محلہ خانیار کے قریب موجود ہے۔لیکن اب ایک اور خیال باقی رہا ہے کہ اگر پورا ہو جائے تو نُورٌ عَلى نُور ہوگا اور وہ دو باتیں ہیں اول یہ کہ میں نے سنا ہے کہ کوہ نعمان میں جو شہزادہ نبی کا چبوترہ ہے اس کے نام ریاست کابل میں کچھ جا گیر مقرر ہے۔لہذا اس غرض کے لئے بعض احباب کا کوہ نعمان میں جانا اور بعض احباب کا کابل میں جانا اور جا گیر کے کاغذات کی ریاست کے دفتر سے نقل لینا فائدہ سے خالی نہیں معلوم ہوتا۔دوسرے یہ کہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام افغانستان کی طرف نصیبین کی راہ سے آئے تھے اور کتاب رُوْضَةُ الصَّفَا سے پایا جاتا ہے کہ اس فتنہ صلیب کے وقت نصیبین کے بادشاہ نے حضرت مسیح کو بلایا تھا اور ایک انگریز اس پر گواہی دیتا ہے کہ ضرور حضرت مسیح کو اس کا خط آیا تھا بلکہ وہ خط بھی اس انگریز نے اپنی کتاب میں لکھا ہے اس صورت میں یقینی امر ہے کہ نصیبین میں بھی حضرت مسیح علیہ السلام کے اس سفر کی اب تک کچھ یادگار قائم ہو گی۔اور کچھ تعجب نہیں کہ وہاں بعض کتبے بھی پائے جائیں یا آپ کے بعض حواریوں کی وہاں قبر میں ہوں اور شہرت پا چکی ہوں لہذا میرے نزدیک یہ قرین مصلحت قرار پایا ہے کہ تین دانشمند اور اولوالعزم آدمی اپنی جماعت میں سے نصیبین میں بھیجے جائیں۔لے ایک ہمارے مخلص نے جن کا نام عبدالعزیز ہے جو او جلہ ضلع گورداسپور میں رہتے ہیں اور اس ضلع کے پٹواری ہیں جن کا نام پہلے میں لکھ چکا ہوں اپنے جوش اخلاص سے نصیبین کے سفر کیلئے ایک آدمی کے جانے کا آدھا خرچ اپنے پاس سے دیا ہے عالی ہمتی اس کو کہتے ہیں کہ اس تھوڑی سی دنیوی معاش کے ساتھ اس قدر خدمت دینی کو شجاعت ایمانی سے بجالائے ہیں اور ایسا ہی میاں خیر الدین کشمیری سیکھواں نے اس سفر کیلئے اپنی حیثیت سے زیادہ ہمت کر کے دس روپے دیئے ہیں۔سے کابل اور کوہ نعمان میں بھیجنے کے لئے اسی نواح کے بعض آدمی تجویز کئے گئے ہیں کیونکہ وہ اس ملک اور اُن پہاڑوں کے خوب واقف ہیں۔