حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 269 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 269

حیات احمد ۲۶۹ جلد پنجم حصہ اول کر دیتا کہ کیوں یہ لوگ خدائے واحد لاشریک کو چھوڑ کر ایک عاجز انسان کی پرستش کر رہے ہیں اور کیوں یہ لوگ اس نبی پر ایمان نہیں لاتے جو سچی ہدایت اور راہ راست لے کر دنیا میں آیا ہے۔ہر ایک وقت مجھے یہ اندیشہ رہا ہے کہ اس غم کے صدمات سے میں ہلاک نہ ہو جاؤں اور پھر اس کے ساتھ یہ دقت تھی کہ رسمی مباحثات ان لوگوں کے دلوں پر اثر نہیں کرتے اور پرانے مشرکانہ خیالات اسی قدر دل پر غالب آگئے ہیں کہ ہیئت اور فلسفہ اور طبعی پڑھ کر ڈبو بیٹھے ہیں۔اور ان کی ایسی ہی مثال ہے کہ جیسے ایک اتنی برس کا بڑھا ہندو ہر چند دل میں تو خوب جانتا ہے کہ گنگا صرف ایک پانی ہے جو کسی کو کچھ بھی نفع نہیں پہنچا سکتا اور نہ ضرر کر سکتا ہے تب بھی وہ اس بات کے کہنے سے باز نہیں آتا کہ گنگا مائی میں بڑی بڑی ست اور طاقتیں ہیں۔اور اگر اس پر دلیل پوچھی جائے تو کوئی بھی دلیل بیان نہیں کر سکتا تاہم منہ سے یہ کہتا ہے کہ اس کی شکتی کی دلیل میرے دل میں ہے جس کے الفاظ متحمل نہیں ہو سکتے۔مگر وہ کیا دلیل ہے صرف پرانے خیالات جو دل میں جمے ہوئے ہیں۔یہی حالات ان لوگوں کے ہیں کہ نہ ان کے پاس کوئی معقول دلیل حضرت عیسی" کی خدائی پر ہے اور نہ کوئی تازہ آسمانی نشان ہے جس کو وہ دکھا سکیں کہیں اور نہ توریت کی تعلیم جس پر انہیں ایمان لانا ضروری ہے اور جس کو یہودی حفظ کرتے چلے آئے ہیں۔اس مشر کا نہ تعلیم کی مصدّق ہے مرتا ہم محض تحکم اور دھکے کی راہ سے یہ لوگ ناحق اس بات پر اصرار کر رہے ہیں کہ یسوع مسیح خدا ہی ہے خدا نے قرآن کریم میں سیچ فرمایا ہے کہ قریب ہے کہ اس افترا سے آسمان پھٹ جائیں کہ ایک عاجز انسان کو خدا بنایا جاتا ہے۔اور میرا اس درد سے یہ حال ہے کہ اگر دوسرے لوگ بہشت چاہتے ہیں تو میرا حلا افسوس کہ عیسائیوں کے ہاتھ میں صرف صد ہا برس کے شکوک اور مشتبہ قصے ہیں جن کا نام نشان اور معجزات رکھا ہوا ہے لیکن اگر حقیقت میں ان کے مذہب میں معجزہ نمائی کی طاقت ہے تو میرے مقابل پر کیوں نہیں دکھلاتے۔یقیناً سمجھو کہ کچھ بھی طاقت نہیں کیونکہ خدا اُن کے ساتھ نہیں۔م منه