حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 268
حیات احمد ۲۶۸ جلد پنجم حصہ اول کشمیر تک پہنچ کر آباد ہو گئیں اور مسیح کا ان گم شدہ بھیڑوں کی طرف آنا ضروری تھا اس لئے کہ یہ دس قومیں اُن کی بعثت کے وقت وہاں موجود نہیں تھیں۔یہ تمام تفصیلات تو مسیح ہندوستان میں بیان ہوئی ہیں میں نے تو یہ ذکر بطور تعارف مسیح ہندوستان میں کیا ہے اس لئے کہ وہ سلسلہ سوانح حیات کی ایک کڑی ہے۔کشمیر آنے کا راستہ غرض اس تحقیقات کے سلسلہ میں اُس راستہ کی تحقیقات ضروری ہوئی جس پر چل کر حضرت مسیح ہندوستان آئے۔اس مقصد کے لئے آپ نے ارادہ کیا کہ ایک وفد نصیبین بھیجا جاوے جہاں سے حضرت مسیح ہندوستان آئے۔یہ انکشاف اس تحقیقات کے ضمن میں ہوا کہ آپ کے اس سفر کے نشانات افغانستان میں بھی ملتے ہیں چنا نچہ کوہ لقمان پر ایک چبوترہ نبی کے نام سے موجود ہے اس نئے انکشاف نے راستہ ہجرت کی طرف راہنمائی کی اور آپ نے ایک وفد نصیبین بھیجنا تجویز فرمایا اور اس کے اخراجات کے لئے ۲ اکتوبر ۱۸۹۹ء کو ایک مفصل اشتہار بعنوان الاشتہار والانصار کے نام سے شائع فرمایا جو سلسلہ کی اہم ضروریات پر مشتمل ہے اور اسی میں اس سفر کے لئے بھی جماعت کو دعوت نصرت دی جس کا وہ حصہ میں یہاں درج کرتا ہوں جو اس سفر کے متعلق ہے۔تیسری شاخ اخراجات کی جس کی ضرورت مجھے حال میں پیش آئی ہے جو نہایت ضروری بلکہ اشد ضروری ہے وہ یہ ہے کہ چونکہ میں تثلیث کی خرابیوں کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا ہوں اس لئے یہ دردناک نظارہ کہ ایسے لوگ دنیا میں چالیس کروڑ سے بھی کچھ زیادہ پائے جاتے ہیں جنہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا سمجھ رکھا ہے میرے دل پر اس قدر صدمہ پہنچا تا رہا ہے کہ میں گمان نہیں کر سکتا کہ مجھے پر میری تمام زندگی میں اس سے بڑھ کر کوئی غم گزرا ہو بلکہ اگر ہم غم سے مرنا میرے لئے ممکن ہوتا تو یہ غم مجھے ہلاک