حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 267 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 267

حیات احمد ۲۶۷ جلد پنجم حصہ اول اور اس سے مراد صلیبی مذہب کی موت ہے۔عیسائی مذہب کی بنیاد اس عقیدہ پر ہے کہ مسیح صلیب پر مارا گیا اور کفارہ ہو گیا اگر یہ ثابت ہو جائے کہ مسیح صلیب پر نہیں مرا بلکہ اپنی طبعی موت سے فوت ہوا تو کفارہ کا مذعوم طریقہ خود بخود باطل ہو جائے گا اور صلیبی مذہبی کی موت جو عیسائی مذہب کی موت کے مترادف ہے حضرت مسیح موعود کے فرائض میں داخل تھی اس لئے بے اختیار آپ کی توجہ اس طرف ہوئی یہ اس مسئلہ کی بنیادی شہادتیں تو مرہم عیسی اور سری نگر میں قبر کا موجود ہونا اور اسے عیسی نبی کی قبر مشہور ہونا تو موجود تھیں، اس سلسلہ میں آپ نے مسلسل تحقیقات کا ارادہ فرمایا۔اس ارادہ کے ساتھ بعض ایسے شواہد پیدا ہو گئے جو موجود تو تھے مگر کسی کو ان کے متعلق خیال تک نہ آیا۔مثلاً بنی اسرائیل کی دس قوموں کی ہندوستان کی طرف ہجرت کرنا ایک تاریخی شہادت تھی اور یہ تو میں افغانستان کے راستہ لے حاشیہ۔یہ انکشاف کس طرح ہوا اس کے متعلق حضرت ڈاکٹر صادق نے اس مجلس کا ذکر اپنی کتاب مسیح میں اس طرح کیا ہے۔” ابتدا اس کی یوں ہوئی کہ ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام مجلس میں بیٹھے تھے آپ نے فرمایا کہ میں آیت کریمہ وَ أَوَيْنَهُمَا إِلَى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَ مَحِينِ پر غور کر رہا تھا اور اس پر غور کرتے ہوئے مجھے ایسا معلوم ہوا کہ گویا وہ مقام ایسا ہے جیسے کشمیر۔اس پر حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ میں نے دوران قیام کشمیر میں سنا تھا کہ یہاں ایک قبر ہے جسے عیسی کی قبر کہتے ہیں اور یہ بات مجھے خلیفہ نورالدین صاحب نے بتائی تھی جو اپنی ڈیوٹی کے سلسلہ میں سارے شہر میں گشت کیا کرتے تھے کہ بعض لوگ اسے نبی کا روضہ اور بعض اسے شہزادہ نبی کا روضہ کہتے ہیں۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خلیفہ نورالدین صاحب کو جموں سے بلایا اور آپ کو حکم دیا کہ سری نگر جا کر اس کے متعلق مکمل تحقیقات کریں۔چنانچہ خلیفہ صاحب وہاں گئے اور چھ ماہ وہاں رہے اس عرصہ میں انہوں نے وہاں کے بڑے بڑے علماء سے دستخط کرالئے کہ یہاں یہ قبر عیسی کی قبر مشہور ہے۔اور بعض لوگوں نے اس کی تائید میں قلمی کتابوں سے بھی شہادتیں پیش کیں۔اس وقت کشمیری لوگ صاف کہہ دیتے تھے کہ یہ کس کی قبر ہے مگر بعد میں پنجاب کے مولویوں نے جا کر اُن کو اس سے روکا اور منع کیا کہ ایسا مت کہا کرو۔چنانچہ اب اگر وہاں جا کر دریافت کریں تو وہ پیسٹی کی قبرنہیں کہتے۔بلکہ بی صاحب یا یوز آسف کی قبر کہتے ہیں چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ، حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کی خلافت کے ابتدائی ایام میں جب وہاں گئے تو ایک نوے سال کی بڑھیا وہاں بیٹھی تھی تو اس نے کہا کہ انہیں سوسال گزر گئے اب کون جانتا ہے کہ یہ کس کی قبر ہے کس کی نہیں۔المؤمنون: ۵۱