حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 260
حیات احمد ۲۶۰ جلد پنجم حصہ اول اس بات کی دعا کرتے رہیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہم کو حضور کے مبارک عہد کے نیک انجام تک جمیع آفات ارضی و سماوی سے محفوظ رکھ کر زندہ رکھے مگر ہم اس بات پر کامل یقین رکھتے ہیں کہ تمام دنیا کی دعائیں اور تدبیریں ایک طرف اور حضور کی ایک دعائے نیم شبی ایک طرف۔ہم خوب جانتے ہیں کہ حضرت مستجاب الدعوات ہیں اس لئے اس بات کی درخواست کرتے ہیں کہ حضور ہمارے حق میں دعا فرما دیں کہ ہم حضور کے ایام کا میابی جہاں تک مقدر ہیں اور اگر ہم سب کی یا ہم میں سے کسی کی موت مقدر ہے تو ہم نہایت خوشی کے ساتھ خدا تعالیٰ کے قضا و قدر پر راضی ہیں اس حالت میں ہم اس دعا کے متمنی ہیں کہ ہمارا خاتمہ ان عقائد پر ہو جن کو ہم نے بصراحت او پر لکھ دیا ہے اور ہم میں سے حضور کی جماعت کا جو بھائی اس عالم سے گزر جائے گا اس کی اطلاع دوسرے بھائیوں کی طرف سے جو زندہ رہیں گے کر دی جائے گی۔تا حضور اس کے لئے دعائے مغفرت فرما دیں ہمارے اعمال ہرگز اس لائق نہیں ہیں کہ ہم لائق مغفرت ہوں بجز خدا تعالیٰ کی وسیع رحمت کے اور حضور کی دعا کے اور کوئی ذریعہ نجات کا نہیں ہے ہم اس بات پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ ہم اپنی اس کچی ارادت وعقیدت و محبت کا جو ہم حضور کے ساتھ رکھتے ہیں اجر عظیم پاویں گے۔اب ہم اس عریضہ نیاز کو ختم کرنے سے پہلے اپنے آپ کو اور اپنے عیال و اطفال کو اللہ جل شانہ کی حفظ وحمایت اور حضور کی دردمند دل کی دعاؤں کے سپر د کرتے ہیں کہ وہ ہم سے دونوں جہاں میں راضی ہو۔ہماری جماعت کے تمام بھائیوں کو ہماری طرف سے سلام مسنون پہنچے۔ا۔سید مردان علی ۲ محمد نصیر الدین محمد ابوالحمید ۴- سید عبدالحی -۵- سید محمد رضوی ۶۔صفدر حسین ۷ محمد عباس۔مرزا محمد بیگ ۹۔مرزا ظہور علی ۱۰۔صادق علی بیگ ان بزرگوں کی مخلصانہ کوششوں نے اور دعاؤں نے سلسلہ احمدیت کو بار آور کیا اور اب تک جو تحریک معزز عہدہ داروں کے حلقہ میں کام کر رہی تھی اس نے اپنا اثر حیدر آباد کے ایک ممتاز عالم حضرت مولوی محمد سعید صاحب پر کیا چونکہ وہ ایک قلب سلیم اور روح سعادت اپنے اندر رکھتے تھے باوجود یکہ وہ اپنے ارادت مندوں کا ایک حلقہ رکھتے تھے اور انہیں سلسلہ کی مخالفت کا بھی خوب علم تھا مگر انہوں نے اس کی پرواہ نہ کی وہ سرکاری ملازم تھے مگر دینیات کے طلباء اور علوم عربیہ کے