حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 259
حیات احمد ۲۵۹ جلد پنجم حصہ اول صدی چہار دہم میں باتفاق علماء و اولیاء امید کی گئی تھی وہ بلا شبہ حضور اقدس ہیں قطع نظر ان مقدس دلائل کے جن کو حضور نے اپنی مبارک کتابوں میں تحریر فرما دیا تھا۔ہم نے احادیث نبویہ کے بموجب ان کے بہت سے آثار علامات کو دیکھ لیا ہے جن کا وقوع زمانہ ظہور امام آخر الزمان سے وابستہ تھا اس کوشش میں خدا تعالیٰ نے ہماری مدد کی اور ہمارے سینوں کو کھول دیا اور یہ فہم و بصیرت ہم کو عطا کی اور اب ہمارا دل یقین سے مامور ہو گیا ہے۔ماہ رمضان المبارک کے کسوف و خسوف جو اسی ایک مہینہ میں حدیث کے الفاظ کے مطابق واقع ہوا ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور اس آسمانی نشان کو دیکھ کر ہمارا ایمان اور بھی تازہ ہو گیا ستارہ ذوالسنین کے طلوع کی صحیح اطلاع ہم کو ملی یہ وہی ستارہ ہے جو حضرت عیسی کی پیدائش کے وقت طلوع ہوا تھا اور بعد ظہور حضرت امام آخر الزمان کے پھر طلوع ہوا اور یہ دوسرا آسمانی نشان تھا جس نے حضور کی صداقت پر شہادت ادا کی۔ہم نے دقبال کو دیکھا اور اس کو شناخت کیا اور بصیرت سے اس کی پیشانی پرک۔ف۔ر۔لکھا ہوا اچھی طرح پڑھ لیا قحط و زلزلہ و طاعون جوبصورت عذاب دنیا میں شائع ہوئے اور ہورہے ہیں اور جن کی خبریں احادیث نبویہ میں بکثرت دی گئی تھیں ان کو دیکھ کر ہم خدا تعالیٰ کے قہر وجلال سے اسی کی رحمت کی پناہ چاہتے ہیں۔غرض کہ ہم اس بات پر ایمان لا چکے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام بالیقین فوت ہو چکے قرآن کریم ان کی وفات کی قطعی ویقینی خبر دیتا ہے اور آنے والا مسیح آ گیا ہم نے ان عقائد کی اپنے عیال واطفال کو بھی تعلیم دی ہے اور وہ بھی اس عقیدے میں ہمارے ساتھ متفق ہیں۔ہم اللہ تعالیٰ کے اس احسان عظیم کا بدل و جان بدرجہ غایت شکر کرتے ہیں کہ ہم نے حضور کا وہ مبارک زمانہ پالیا جس کی تمنا میں تیرہ سو برس دنیا کی عمر ختم ہوگئی اور صدہا راست باز اس عہد کی آرزو میں اس دنیا سے گزر گئے۔آخر پر ہم نہایت ادب و عاجزی کے ساتھ حضور سے خاص طور پر ایک درخواست کرتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ حضور اس کو قبول فرماویں گے اگر چہ ہم نے اس بات کا التزام کیا ہے کہ نماز پنجگانہ کے ساتھ درود واستغفار بھی بکثرت پڑھیں اور اپنے متعلقین و متعلقات کو بھی اس کا پابند کیا ہے مگر جب ہم اس کے اعمال و افعال پر نظر کرتے ہیں تو بے انتہا ندامت کی وجہ سے دعا کرنے میں بھی جرأت نہیں کر سکتے مگر اس خوف سے کہ خدا تعالیٰ کی رحمت سے ناامید ہو جانا بھی ایک کفر ہے۔ہم