حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 258 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 258

حیات احمد ۲۵۸ جلد پنجم حصہ اول چونکہ اس مرض کا شیوع اس ملک کے حدود میں بھی شروع ہو گیا ہے روز متوحش خبریں پہنچتی جاتی ہیں اور ظاہری آثار بہت خطرناک ہیں اور معلوم نہیں کہ کس وقت کیا حادثہ وقوع میں آئے لہذا ہم لوگ اپنے ایمان و عقائد کا اسی طرح جس طرح حضور نے اپنی پاک و مقدس کتابوں میں تحریر فرما دیا ہے حضور کو شاہد ٹھہراتے ہیں۔جس پر اول الشاہدین خود خداوند تعالیٰ جل شانہ کی ذات رفیع الدرجات ہے اور امیدوار ہیں کہ میدان محشر میں بروز حساب ہمارے ان عقائد کی احکم الحاکمین کے روبر وحضور گواہی ادا فرمائیں اللہ جَلَّ شَانُهُ ہمارے اس عقیدے کا شاہد ہے اور حضور بھی شاہد رہیں کہ ہم بصدق نیت اس بات پر ایمان لا چکے ہیں (یہ عقائد حضور اقدس کی کتاب ازالہ اوہام و آئینہ کمالات اسلام سے نقل کیے گئے ہیں ) تاکہ اللہ جَلَّ جَلالُهُ ، وَجَلَّ شَانُهُ خير محض ہے اور مبدء ہے جمیع فیضوں کا اور مصدر ہے تمام خیرات کا اور جامع ہے تمام کمالات کا اور مرجع ہے ہر ایک امر کا اور موجد ہے تمام وجودوں کا اور علت العلل ہے ہر ایک مؤثر کا جس کی تاثیر یا عدم تا ثیر ہر وقت اس کے قبضے میں ہے اور واحد لاشریک ہے اپنی ذات میں اور صفات میں اور اقوال میں اور افعال میں اور اپنے تمام کمالوں میں ازلی ہے، اور ابدی ہے اپنے جمیع صفات کاملہ کے ساتھ اور حضرت سیدنا و مولانا محمد مصطفی ﷺ خاتم النبین و خیرالمرسلین ہیں جن کے ہاتھ سے اکمال دین ہو چکا ہے اور وہ نعمت بمرتبہ اتمام پہنچ چکی جس کے ذریعہ سے انسان راہ راست اختیار کر کے خدا تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے اور ہم پختہ یقین کے ساتھ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن شریف خاتم کتب سماوی ہے اور ایک شعثہ یا نقطہ اس کی شرائع اور حدود اور احکام اور اوامر سے زیادہ نہیں ہوسکتا ہے۔اور نہ کم ہوسکتا ہے اور ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ جنت و جہنم خدائے ازلی و ابدی کے صفات قدیمہ جلال و جمال کے مظاہر تامہ ہیں اور ملائک مقسمات و مدبرات امر ہیں اور ہم ایمان رکھتے ہیں خدا تعالیٰ کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر اور بعث بعد الموت پر غرض ہمارا ان تمام باتوں پر ایمان ہے جو قرآن شریف میں درج ہیں اور جو آنحضرت اللہ خدا تعالیٰ کی طرف سے لائے۔جس طرح ہم ان تمام باتوں پر ایمان رکھتے ہیں اسی طرح ہم اس بات پر بھی ایمان رکھتے ہیں کہ نبی معصوم علیہ نے اپنی امت کو جس بادی کی خبر دی تھی اور جس کو بعض صفات و مشابہتوں کی وجہ سے اور بعض کمالات و مناسبتوں کی وجہ سے مہدی فرمایا تھا اور جس کے ظہور کی زیادہ سے زیادہ