حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 257
حیات احمد ۲۵۷ جلد پنجم حصہ اوّل ناشنوا گوش تک نہ پہنچ سکی اور انہوں نے اس خدا داد نعمت کی کچھ قدر نہ کی جو عین ضرورت کے وقت حضرت قَومِ عالَم جَلَّ شانہ نے ان کو عطا کی تھی۔روحانی نور اور آسمانی امور سے وہ اس درجہ محروم و بے نصیب ہو گئے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی ان قدیم سنتوں کو بھی انہوں نے بالکلیہ اپنے دل سے فراموش کر دیا ہے جس کے آثار و نقوش نظام فطرت و قانون قدرت میں مندرج ہیں اگر ان کی سعید فطرت ان کو مضطر کرتی اور وہ اپنی بصیرت سے کام لیتے اور حضور اقدس کی جان بخش و روح پرور تصنیفات کو تدبر سے دیکھتے اور جناب عالی کی پاک ہدایت و مبارک تعلیم پر ایک منصف و دانا دل لے کر غور کرتے تو ان کے خون کا قطرہ قطرہ اور ان کی خاک کا ذرہ ذرہ اس امر پر شہادت دیتا کہ اللہ جَلّ شَانُهُ نے اس پُر آشوب و پر ظلمت زمانہ میں اپنی روحانی تجلی کے ساتھ اس عالم کی طرف توجہ کی ہے اور اپنی عظیم الشان رحمت کو ایک نہایت عالی خیال و روشن دماغ و بلند حوصله و سلیم العقل وحليم المزاج و سعید الفطرت و کامل الایمان و پاک باز و پاک نهاد و متقی و مقدس و کریم النفس انسان کی صورت میں ہم پر ظاہر کیا ہے۔ہم اس کی برکت سے صراط المستقیم کو پالیں اور اپنی منزل مقصود پالیں گے۔مگر ہم اس بات سے سخت دردمند ہیں کہ بجائے قدر شناسی و شکر گزاری کے ان لوگوں نے حضور کی تکلیف کا کوئی دقیقہ اٹھانہ رکھا اور کوئی پہلو مخالفت و مخاصمت کا باقی نہ چھوڑا ان حالات کو عرصہ سے دیکھ دیکھ کر اس بات سے دل ڈرتا تھا اور خوف آتا تھا۔تا دل مردِ خدا نامد بدرد بیچ قومی را خدا رُسوا نہ کر آخر کار وہی ہوا کہ قحط و زلزلہ کے متواتر و مسلسل صدمات سے ایک عالم تباہ ہو گیا ہے اور اب خدا تعالیٰ کے قہری تجلی کے آثار اور بھی زیادہ نمایاں ہونے لگے اور طاعون جیسا مہلک مرض ترقی کرتا جاتا ہے اور اس عالمگیر موت کے احاطے سے نکل جانا انسان ضَعِيفُ البنيان کی طاقت و امکان سے باہر ہے۔یہ بالکل سچ ہے کہ عالم اسباب کے تمام حوادث اسباب سے وابستہ ہو گئے مگر ذاتِ پاک حضرت صانع عَالَم جَلَّ شَانُهُ جو مُتصرف فِى الاسباب ہے اس کے ارادہ مشیت کے بموجب اس کائنات کی ہر ایک حرکت وسکون واقع ہوتی ہے۔ہ ترجمہ۔جب تک کسی اللہ والے کا دل نہیں کڑھتا۔خدا کسی قوم کو ذلیل نہیں کرتا۔