حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 252 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 252

حیات احمد ۲۵۲ جلد پنجم حصہ اوّل پڑھ آئے ہیں یوگنڈا ریلوے کی تعمیر کے سلسلہ میں جب وہ افریقہ گئے تھے وہاں ان کی تبلیغی مساعی نے حیرت انگیز اثر پیدا کر دیا تھا اور جیسا کہ میں لکھ آیا ہوں افریقہ کی یہ جماعت دلائل اور مباحثات کا نتیجہ نہ تھی بلکہ وہ جماعت کے ان معزز ومخلص افراد کی صحیح اسلامی متقیا نہ زندگی کا اثر تھا چنانچہ حضرت ڈاکٹر محمد اسماعیل خاں صاحب اور دوسرے احمدیوں کی عملی زندگی نے ایک ہی دن پانچ مسلم ڈاکٹروں کو جو سلسلہ کی سخت مخالفت کرتے تھے۔احمدی جماعت کے رکن اور رتن بنا دیا اور اس قافلہ کے یکجا موجود ہونے کی ایک عجیب تحریک ہو گئی جن کا مختصر ذکر میں الحکم ۲۹ اکتوبر ۱۸۹۸ء سے یہاں درج کرتا ہوں۔یہاں ممباسہ اور مشرقی افریقہ کے گردونواح میں ایک شخص مبارک نامی بگڑا ہوا باغی سردار تھا شخص سلطان زنجبار کے مشیروں میں سے تھا مگر جب سلطان نے سلطنت برطانیہ سے کچھ عہد و پیمان کر کے جزیرہ ممباسہ جس میں بیٹھے ہم مضمون لکھ رہے ہیں کچھ عرصہ کے لئے انتظام ملکی وغیرہ کی خاطر صاحبان انگریزی کو دے دیا تو یہ شخص مبارک سلطان کا سخت دشمن ہو گیا اور ہر طرح اور ہر طرف سے سلطان زنجبار کو تنگ کرنا شروع کیا۔اور دراصل اس کی عداوت کا باعث تو انگریزوں کے ساتھ سلطان کی صلح کا ہونا تھا اس لئے اس کے ہوتے صاحبان انگریز بھلا کس طرح چین سے اس چھوٹے سے جزیرہ میں نڈر بیٹھ سکتے تھے۔اسی کی سرکوبی کے لئے یہ فوج Indian contingent کے نام سے یہاں آئی تھی۔ہمیں آئے ہوئے چند ماہ ہی گزرے تھے کہ مبارک کی آتشزدگی ہم نے آنکھ سے دیکھی اور اس جزیرے سے ۱۸۰۰ فٹ کے فاصلہ کے قریب ایک چوکی بنی ہوئی تھی جسے اس نے آکر آگ لگا دی اس کی یہ نا شائستہ حرکت دیکھ کر آخر قلعہ ممباسہ سے اس پر گولے اتارے گئے اور وہ بھاگ گیا۔یہ فوج اس شخص مبارک سے پھر جا کر جنگلوں میں لڑی اور آخر کار متواتر کے حملہ میں ایک ایسے جنگل میں جاپڑی جہاں پانی کا نشان نہ ملتا تھا اور پانی کے نہ ملنے کی وجہ سے اس پر سخت مصیبت طاری ہوئی مگر اسی اثناء میں انہیں ایک باغیچہ ناریل کامل گیا۔جس سے انہوں نے اپنی بلب جانوں کو بچا