حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 245 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 245

حیات احمد ۲۴۵ جلد پنجم حصہ اول سے ایک تھے اور یہ سعادت الحکم کے حصہ میں آئی کہ انہیں کلرک سے اخبار نویس بنادیا ) جب افریقہ جانے لگے تو میں نے ان کو ایک ہفتہ واری چٹھی لکھنے کی تحریک کی اور انہوں نے اس فرض کو خوش اسلوبی سے انجام دیا اور اس ابتدا نے انہیں آخر اخبار بدر کے بانیوں میں شامل کر دیا وہ جب افریقہ جارہے تھے تو میں نے ان کو حالات سفر لکھنے کی تحریک کی اور ایک عرصہ تک یہ سلسلہ جاری رہا ان کے بقیہ حاشیہ۔نہیں اس روحانی تبدیلی نے انہیں قادیان کی طرف متوجہ کیا جوابدی اور باقی لذتوں اور واقعی روح افزا نظاروں کے سارے جہاں میں ایک جگہ ہے۔اس کشش اور میلان کی انہوں نے بلا مدافعت پیروی کی۔قادیان میں آئے چند روز رہے پورے بے سامان اور عیال کثیر اور بظاہر معاش کا کوئی امید دلانے والا منظر نہیں با ایں ہمہ صدق دل سے عزم کر لیا کہ جو ہو سو ہو یہاں سے نہیں جاؤں گا۔یہ ایک فقرہ یا عہد ہے جو بہت سے مونہوں سے نکلا میرے کانوں نے سنا ہے اور میرے حافظہ نے یادرکھا مگر کہنے والوں نے آخر کار ایسا دکھایا کہ انہوں نے منہ سے کوئی مردانہ بات نہیں نکالی تھی بلکہ تھوک پھینکی تھی خدا تعالیٰ نے بھی ان کے دل کو دیکھ کر ان کے عہد اور وعدہ پر تو فیق نازل نہ فرمائی۔مگر مرحوم محمد افضل کے خلوص نیت کا ثبوت خواستیم اعمال نے دے دیا اور سب قیل اور قال کا خاتمہ۔مرحوم کے دل میں مدت سے خیال تھا کہ قادیان میں ایک اخبار نکالا جائے اس مضمون کا ایک مفصل خط ایک دفعہ انہوں نے افریقہ سے مجھے لکھا تھا یہاں قیام کے عزم با جزم اور دوام سکونت کے اسباب کی تلاش اور نگہداشت نے انہیں اس ارادہ پر پختہ کر دیا اور آخر انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ فلاح دارین کا بھی ایک ذریعہ ہے اس سے قوم کی خدمت بھی ہوگی اور قوت لایموت بھی مل جائے گی۔البدر نکلا۔مختلف اوقات میں نہیں شروع سے آخری دم تک اس کی راہ میں انہیں مصیبتیں اور رکاوٹیں پیش آئیں شاید کم ہی لوگ واقف ہوں گے مرحوم اور اس کے عیال نے بسا اوقات دن کو آدھا پیٹ کھانا کھایا اور رات کو بھوکے سوکھے سو گئے اور اکثر خشک نون ، مرچ کے ساتھ کچی پکی روٹیاں کھا کر گزارہ کیا۔کچی کی میں نے اس لئے کہا کہ ایندھن خریدنے کی طاقت بھی نہ ہوتی۔نہ صرف بچے بچھٹے پرانے کپڑوں میں ادھر ادھر پھرتے نظر آتے بلکہ خوبصورت نو جوان باپ بھی اسی رحم انگیز ہیئت میں باہر نکلتا اور کاروبار کرتا ہے۔ایک لائق اور بہتوں سے افضل منشی انگریزی میں عمدہ دستگار رکھنے والا باہر نکل کر خوب کمانے اور عمدہ گزران والا کونسی بات تھی جس نے ایسی زاہدانہ زندگی کے اختیار کرنے پر مجبور کیا اس کا جواب صاف ہے حضرت مسیح موعود کی اور آپ کی معیت کی لذت۔غرض مرحوم کے اخلاق میں یہ استقامت اور استقلال کا حق مجھے قابل قدر اسوہ نظر آیا ہے یہ وہ نور ہے جس سے اللہ تعالیٰ ملتا ہے اللہ تعالیٰ ہمارے نو جوان بھائی کو جوار رحمت میں جگہ دے اور ان کی استقامت کے نمونے سے بہتوں کو مستفید کرے۔عبد الكريم ۳۰ ر ا پریل ۱۹۰۵ء