حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 246
حیات احمد ۲۴۶ جلد پنجم حصہ اوّل ان خطوط ہی میں حضرت ڈاکٹر اسماعیل کا یہ کارنامہ درج ہے۔یہ ابتدائی مبشر اور مبلغ فضیلت کی دستار پہن کر نہ گئے تھے مگر اُن کے اعمال اور سیرت ایسی تھی کہ دلائل کی ضرورت نہ رہتی تھی لوگ ان کے طرز عمل کو دیکھ کر سلسلہ کی صداقت کے قائل ہو جاتے تھے ان عملی مبلغین نے ایسے ایسے فدا کاروں کو سلسلہ میں شمولیت کی توفیق دلائی کہ ان کا نام تاریخ سلسلہ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔انہیں میں سے ایک شہید حضرت ڈاکٹر رحمت علی رضی اللہ عنہ تھے۔جو سومالی لینڈ کی جنگ میں اپنے فرائض ادا کرتے ہوئے شہید ہو گئے اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتیں ہوں اس شہید صداقت پر ان کے سلسلہ میں شامل ہو جانے کی وجہ سے جماعت کی ترقی کی ایک ایسی رو چل پڑی کہ افریقہ کی یہ جماعت اس وقت اپنے عملی نمونہ میں تقویٰ و طہارت اور سلسلہ کی خدمت میں بیرون ہند کی سب سے پہلی اور چوٹی کی جماعت تھی اس جماعت کے ارتقاء کے متعلق ایک اقتباس الحکم ۲۹ رنومبر ۱۸۹۸ء میں سے درج کرتا ہوں۔ناظرین اخبار ہذا میں سے ہر ایک فرد بشر اس بات سے واقف ہے کہ یوگنڈا ریلوے میں جس قدر ملازموں کی ضرورت ہے وہ کل تعداد عموماً ہندوستان سے مہیا کی جارہی ہے اور اس میں اکثر حصہ پنجاب کے اہل اسلام کا ہے۔اور یہ وہ قطعہ ہے کہ اس زمانہ میں باعث بعثت مسیح الموعود و مہدی المعہود فی آخر الزمان اپنی نظیر دنیا میں نہیں رکھتا۔خدا کی برکات اور انعامات اور اس کے پاک کلام کے حقائق اور معارف اور اسرار کے مخزن ہونے کا فخر اس حصہ ہندوستان کو اپنے زمانہ میں ایک فوق العادت اثر کے ساتھ حاصل ہے جہاں کئی ہزار لوگوں کی تعداد اپنی محسن گورنمنٹ انگلشیہ کی خاطر اس ریلوے کی تعمیر کے لئے آئی تھی وہاں اس رحمت للمنجاب والعالمین میرزا غلام احمد قادیانی صاحب علیہ السلام کے چند ایک خدام بھی اسی سلسلہ میں آگئے تھے اور یہ اصل میں اہالیان پنجاب پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ جیسے اس نے اپنی رحمتوں کا مقام نزول پنجاب کو بنایا تھا۔اسی طرح اُس رحیم و کریم ذات نے یہ نہ چاہا کہ جو لوگ پنجاب سے باہر جارہے