حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 243
حیات احمد ۲۴۳ جلد پنجم حصہ اول کہ بعض خدا کے بندے جب دنیا سے انقطاع کر کے خدا تعالیٰ سے ملیں گے تو ان کے نامہ اعمال میں مصیبتوں کے وقت میں صبر کرنا بھی ایک بڑا عمل پایا جائے گا تو اسی عمل کے لئے بخشے جائیں گے۔بخدمت محبّی اخویم سیّد حامد شاہ صاحب السلام علیکم ومضمون واحد خاکسار غلام احمد از قادیاں مکتوبات احمد جلد سوم صفحه ۱۷۰،۱۶۹ مطبوعہ دسمبر ۲۰۱۳ء) خط کے پہنچتے ہی دعائے مغفرت بہت کی گئی اور کرتا ہوں مگر یہ تجویز ٹھہری ہے کہ جنازہ جمعہ کے روز پڑھا جائے۔چنانچہ اس کے بعد مولانا مولوی عبد الکریم صاحب کے کارڈ سے معلوم ہوا کہ قبل از نماز جمعہ حضور مقدس نے نماز جنازہ پڑھائی اور بہت دیر تک چپ چاپ کھڑے دعائیں مانگتے رہے۔احمدیت مشرقی افریقہ میں ۱۸۹۸ء میں حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی اس پیشگوئی کے آثار شروع ہو گئے کہ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا“۔اس پیشگوئی کے پورا ہونے کی ابتدا مشرقی افریقہ سے شروع ہوئی۔جہاں برطانیہ نے اپنی نئی آبادی کے سلسلہ میں ہندوستان کے کاریگروں اور اہل قلم اور ڈاکٹروں کو وہاں بھیجنا شروع کیا یہ سارا عملہ یوگنڈا ریلوے کی تعمیر کے سلسلہ میں جار ہا تھا اور اتفاق سے ان میں بعض احمدی بھی چلے گئے۔اس ابتدائی دور میں جانے والے حضرت بابو محمد افضل، حضرت صوفی نبی بخش ، حضرت ڈاکٹر محمد اسماعیل گوڑیا نوی جیسے لوگ تھے۔پھر ان کی تبلیغ سے وہاں ایک جماعت پیدا ہوگئی جو نہایت مخلص اور فدا کاروں کی جماعت تھی ، اُن میں سر فہرست جس بزرگ کا نام لیا جا سکتا ہے وہ حضرت ڈاکٹر رحمت علی صاحب ہیں جو سومالی لینڈ میں شہید ہوئے تھے۔ان کے بقیہ حاشیہ۔حضور کے ارشاد پر عمل کیا گیا اور زخم کو گلیسرین اور سلفر وغیرہ سے صاف کیا جاتا رہا۔جس سے خلیفہ صاحب بھی صحت یاب ہو گئے اور دونوں ڈاکٹروں کی حیرانگی کی کوئی حد نہ رہی یہ محض حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ کی دعا کا اثر تھا۔الحکم مورخہ ۷ تا ۴ ارنومبر ۱۹۳۹ء صفحہ ۴ تا ۷ )