حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 242
حیات احمد ۲۴۲ جلد پنجم حصہ اول ہو گئے آپ کے دل پر بھی جس قدر ہجوم غم کا ہوگا اُس کا کون اندازہ کر سکتا ہے اس نا گہانی واقعہ کا ظم در حقیقت ایک جانکاہ امر ہے لیکن چونکہ یہی خدا تعالیٰ کا فعل ہے اس لئے ایسی بھاری مصیبت پر جس قدر صبر کیا جائے اسی قدر امید ثواب ہے لہذا امید رکھتا ہوں کہ آپ مرضی مولا پر راضی ہو کر صبر فرما دیں گے اور مردانہ ہمت اور استقامت سے متعلقین کوتسلی دیں گے۔میں نے ایک جگہ دیکھا ہے حضرت خلایق لمسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کے متعلق ایک کشف مجھے ۱۹۳۱ء میں کشفی حالت میں ایک بچہ دکھایا گیا۔جس سے سب لوگ بہت پیار کرتے تھے میں نے بھی اسے گود میں اٹھالیا اور پیارکیا۔اگر چہوہ چھوٹا سابچہ ہےمگر لوگ کہتے ہیں کہ اس کی عمر ۴۳ سال کی ہے۔مجھے القا ہوا کہ اس کشف میں جو بچہ دکھایا گیا ہے وہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ اسیح الثانی ہیں ( ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ) ۱۹۳۱ء میں آپ کی عمر ۴۳ سال تھی اور یہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی ، اشعار میں درج ہے۔بشارت دی کہ اک بیٹا ہے تیرا جو ہو گا ایک دن محبوب میرا اس میں لفظ ایک میں بھی اشارہ ۱۹۳۱ء کی طرف ہے کیونکہ بحساب ابجد ایک کے عدداس ہیں اور روحانی ترقی کا کمال بھی چونکہ ۴۰ سال کے بعد سے شروع ہوتا ہے۔اس واسطے اس کشف میں بچہ ۴۳ سال کا دکھایا گیا ہے۔( منقول از الفضل ۳۱ / جنوری ۱۹۳۹ء) ( خلیفہ صاحب کا خیال اغلبا اس طرف نہیں گیا کہ ۱۹۳۱ء میں حضور نے ریاست جموں وکشمیر کے مسلمانوں کی راہنمائی کی تھی اور خلیفہ نورالدین صاحب کو بھی اس ریاست سے پرانا تعلق ہے اس لئے ان کے کشف میں حضور کی عمر جو ۴۳ سال کی دکھائی گئی ہے اس سے مراد یہ ہے کہ جب حضور کی عمر ۴ سال کی ہوگی تو حضور اس ملک کی بہبودی کیلئے خاص کوشش کریں گے۔جہاں خلیفہ صاحب مقررہوں گے۔راقم ) حضرت امیر المؤمنین کی دعا سے شفا دسمبر ۱۹۳۷ء میں حضرت خلیفہ نورالدین صاحب کو پھر کا ر بنکل کا حملہ ہو گیا اور قابل ڈاکٹروں برکت رام ایم بی (لنڈن ) اور بلونت سنگھ صاحب اسٹ۔آرہی۔ایس۔ای کے زیر علاج تھے۔دونوں نے مرض کی رفتار کو دیکھ کر آپریشن کا متفقہ مشورہ دیا اور کہا کہ اب سوائے آپریشن کے اور کوئی چارہ کار نہیں مگر خلیفہ صاحب پہلے تلخ تجربہ کی بناء پر آپریشن کے لئے تیار نہ تھے آخر حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں بیماری کی اطلاع بذریعہ تار دی گئی اور دعا کی درخواست کی گئی۔حضور نے ارشاد فرمایا کہ آپریشن نہ کرائیں اور زخم کو گلیسرین وغیرہ نئے طریق علاج سے صاف کرواتے رہیں۔انشاء اللہ آرام ہوگا۔چنانچہ