حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 241 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 241

حیات احمد ۲۴۱ جلد پنجم حصہ اول غم سے بیقرار ہوئی جاتی ہے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ سید نصیلت علی شاہ صاحب کو جس قدر انہوں نے ایک پاک تبدیلی اپنے اندر پیدا کی تھی اور جیسے انہوں نے اپنی سعادت مندی اور نیک چلنی اور صدق اور محبت کا عمدہ نمونہ دکھایا تھا یہ باتیں عمر بھر کبھی بھولنے کی نہیں ہمیں کیا خبر تھی کہ اب دوسرے سال پر ملاقات نہیں ہوگی دنیا کی اس نا پائیداری کو دیکھ کرکئی بادشاہ بھی اپنے تختوں سے الگ بقیہ حاشیہ۔منکر ہے اور اسے گالیاں دیتا ہے۔میں نے اس واقعہ کا حضرت مسیح موعود سے ذکر کیا تو حضور ہنس پڑے۔چائے میں زنجبیل ڈال کر پیو حضور اکثر ہمیں فرمایا کرتے تھے کہ جب چائے پیو تو اس میں سونٹھ ڈال لیا کرو قرآن میں آتا ہے كَانَ مِزَاجُهَا زَنجَبِيلًا (الدھر: ۱۸) ایک دفعہ میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوا تو چند منٹ بعد حضور اندر سے سماوار چائے کا اور دو پیالیاں اٹھالائے اور فرمایا خلیفہ صاحب آج یہ ساری چائے آپ نے اور میں نے ہی پینی ہے۔میں نے عرض کیا حضور کیا اندر چائے نہیں پیئیں گے۔فرمایا نہیں۔اُن پر چائے حرام ہے۔میں نے عرض کیا۔آپ (اُم المؤمنين ) تو بہت چائے پیتی ہیں یہ حرام کیسے ہوئی۔حضور نے فرمایا ”طبقی حرام ہے اُن دنوں حضرت اُم المؤمنین امیدواری سے تھیں۔کشمیر کے میر واعظ اور ایک مولوی صاحب سے وفات مسیح پر گفتگو ایک دفعہ کشمیر کے میر واعظ رُسل شاہ صاحب سے میری وفات مسیح پر بحث ہوئی، میر واعظ صاحب نے ڈر کر لوگوں سے مجھے یہ ہدایت کر رکھی تھی کہ میں دن کے وقت اُن کے پاس نہ آیا کروں اور گفتگو رات کو ہوا کرے چنانچہ میں تین دن رات کو متواتر ان کے گھر جاتا رہا۔آخر تیسرے روز میرے تمام دلائل سن کر میر واعظ صاحب نے کہا کہ واقعی عیسی علیہ السلام کی وفات ثابت ہے مگر ایک طرف آپ اکیلے ہیں اور ایک طرف سارا شہر ہے۔اگر میں بھی آپ کے ساتھ شامل ہو جاؤں تو لوگ ایک دیا سلائی لگا کر سارا شہر جلا دیں گے“۔ایک دفعہ میں لاہور سے امرتسر آرہا تھا ایک اہل حدیث مولوی میرا ہم سفر تھا اس سے وفات مسیح پر گفتگو شروع ہوئی۔دوران گفتگو میں الہاماً میری زبان پر یہ آیت جاری ہوئی وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ النَّبِيْنَ لَمَا أَتَيْتُكُم الخ (آل عمران : ۸۲) اور میں نے اس آیت سے وفات مسیح کا اس خوبی سے استدلال کیا کہ مولوی صاحب بالکل خاموش ہو گئے۔اس وقت یہ آیت وفات مسیح کیلئے بطور دلیل کے کہیں پیش نہیں ہوئی تھی۔میں نے حضرت مولوی نورالدین صاحب سے اس کا تذکرہ کیا۔مولوی صاحب سن کر بہت خوش ہوئے۔بڑے بڑے علماء کو میں وفات مسیح میں فوراً لا جواب کر دیتا تھا اور خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت سے عالموں نے میرے ذریعہ احمدیت قبول کی حضرت حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی ان میں سے ایک ہیں۔