حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 238
حیات احمد بگریم عبرت ز قول مسیح ۹۸ ۲۳۸ جلد پنجم حصہ اول کہ ہر قول او به نی در یتیم ۱۸ء غفور الرحيم خصیلت علی را لطیف و حمید بیامرز۔آمین۔راقم ( حضرت چودھری) رستم علی صاحب کوٹ انسپکٹر انبالہ بقیہ حاشیہ۔تعویذ کا واقعہ اور حضور کے معجزہ سے ایک لڑکے کی پیدائش ۱۸۹۳ء میں میں قادیان گیا ہوا تھا میری بیوی بھی میرے ساتھ تھی ( یہ میری دوسری بیوی تھی ) اس کے بطن سے اولاد پیدا ہوکر مر جاتی تھی ان دنوں عورتیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دعا کے لئے عرض کرتی تھیں۔میری اہلیہ بھی اس معاملہ میں اپنی عرضداشت حضور کی خدمت میں پہنچاتی رہتی تھی ان دنوں حضرت میاں محمود احمد صاحب (خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز ) چھوٹے بچے تھے۔میرے اہل خانہ نے ان سے کہا کہ حضرت صاحب سے میرے لئے جاکر تعویذ لا دو کہ میرے ہاں لڑکا ہو۔میاں صاحب ہر روز جا کر حضرت صاحب سے عرض کرتے حضرت اقدس ٹال دیتے ایک دن حضرت میاں صاحب نے حضرت مسیح موعود کو پکڑ لیا اور کہا اتا جب تک تعویذ نہ دو گے نہیں جانے دوں گا۔حضور نے ایک تعویذ لکھ دیا جو حضرت میاں صاحب نے میرے اہل خانہ کولا کر دیا۔جب مجھے معلوم ہوا تو میں نے کہا۔میں نہیں مانتا حضرت صاحب تو تعویذ کے قائل ہی نہیں۔حضور کو جب علم ہوا تو حضور نے مجھے فرمایا کہ ہم نے یہ تعویذ محمود کے اصرار پر لکھ کر دیا ہے آپ اسے چاندی میں منڈھوا کر اپنے اہل خانہ کے گلے میں ڈلوا دیں اور کہہ دیں کہ جب وہ پاخانہ میں جایا کریں تو ا تا رلیا کریں۔چنانچہ اس کے کچھ عرصہ بعد جب میں جنگ مقدس والے مناظرہ میں حضور کے ہمراہ امرتسر گیا تو مجھے گھر سے خط آیا کہ خربوزے اگر ملیں تو ہمارے لئے لیتے آؤ۔میں نے اسی وقت سمجھ لیا کہ ہمارے گھر میں امیدواری ہے اس کے کچھ عرصہ بعد ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام عبد الرحیم ہے جو حضور کی دعا کا نتیجہ ہے۔نوٹ : خلیفہ عبدالرحیم کو اللہ تعالیٰ نے دنیاوی رنگ میں بھی اس وقت ریاست کشمیر میں اچھار تبہ اور عزت عنایت کی ہے۔اور میں نے اکثر ان کے خاندان میں سنا ہے کہ یہ سب حضرت مسیح موعود کی دعا کا اثر ہے۔خدا تعالیٰ اس خاندان کو بیش از بیش دینی و دنیوی ترقیات عطا کرے۔آمین۔خاکسار۔(راقم ) حضور کی دعاؤں سے خطرناک امراض سے شفا ایک دفعہ میری آنکھوں میں سکروں کے باعث سخت تکلیف ہوگئی مجھے بہت کم نظر آتا تھا میں کافی عرصہ تک دوسرے مقامات پر علاج کراتا رہا جب آرام نہ ہوا تو قادیان چلا گیا۔حضرت مولانا نورالدین صاحب خلیفہ اول