حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 239
حیات احمد ۲۳۹ جلد پنجم حصہ اول حضرت اقدس نے حضرت حکیم میر حسام الدین صاحب کو اس واقعہ ناگزیر پر تعزیت کا مندرجہ ذیل مکتوب تحریر فرمایا جس میں حضرت سید فصیلت علی شاہ صاحب کی سیرت طیبہ کے بعض آثار کو نمایاں فرمایا۔بقیہ حاشیہ۔سے بھی علاج کراتا رہا لیکن کچھ افاقہ نہ ہوا۔ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب جو اس زمانہ میں آگرہ میں ملازم تھے قادیان آئے ہوئے تھے میں نے ان سے تذکرہ کیا۔انہوں نے آنکھیں دیکھ کر کہا کہ ان کا کچھ علاج نہیں ہو سکتا مجھے سخت صدمہ ہوا۔اور میں اسی حالت میں حضرت مسیح موعود کے مکان پر گیا اور حضور کی خدمت میں اطلاع کی حضور باہر تشریف لے آئے میں نے اپنی حالت کے متعلق عرض کیا، حضور نے آنکھیں دیکھ کر فرمایا دو تین دن ٹھہر و۔میں دعا کروں گا اس وقت خواجہ کمال الدین صاحب نے بھی دعا کے لئے عرض کیا اور کہا کہ میرا کاروبارا چھی طرح سے نہیں چلتا۔میرے لئے بھی حضور دعا کریں۔(حضور نے ) ان سے بھی دعا کا وعدہ فرمایا۔میں تین روز قادیان میں ٹھہر کر انجمن حمایت اسلام لاہور کے ایک کارکن میاں شمس الدین صاحب کے ہمراہ امرتسر گیا۔وہاں شمس الدین صاحب اپنے ایک کام کیلئے ایک ڈاکٹر کو ملے ڈاکٹر صاحب موصوف کو بھی میں نے اپنی آنکھیں دکھائیں ڈاکٹر نے ایک مہینہ تک ٹھہرنے کیلئے کہا میں نے کہا کہ میں ایک ماہ تک تو ٹھہر نہیں سکتا اس پر ڈاکٹر نے کمیونڈر کو کہا کہ اسے فلاں مرہم دے دو اور مجھے کہا کہ وہ مرہم میں اپنی آنکھوں کے اندر اور باہر اچھی طرح لگاؤں۔امرتسر سے میں میاں شمس الدین صاحب کے ساتھ لاہور گیا جہاں انہوں نے باصرار ایک روز اپنے پاس ٹھہرایا ڈاکٹر والی مرہم میں نے استعمال کرنی شروع کر دی جس سے افاقہ ہوگیا۔اور لاہور سے جب میں جموں پہنچا تو دو چار روز میں آنکھوں کو پورا پورا آرام ہو گیا۔پھر ایک دفعہ مجھے کاربنکل ہو گیا۔میں قادیان چلا گیا۔وہاں پر حضرت مسیح موعود نے مجھے اچھی طرح سے ٹھہرایا میں حضرت خلیفہ اول کے زیر علاج تھا اس دوران میں ایک ڈاکٹر نے اسے چیرا دے دیا اور بعد میں حالت خراب ہو گئی۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ لوہا لگنے سے کار بنکل لاعلاج ہو جاتا ہے ( طبیبوں کا عام طور پر ایسا ہی خیال ہے ) اس لئے اب یہ لاعلاج ہے۔حضرت مسیح موعود کو جو نہی اس بات کا علم ہوا تو باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ کیا بات ہے۔میں نے عرض کیا کہ ڈاکٹر اور حکیم کہتے ہیں کہ اب یہ لا علاج ہے۔آپ نے فرمایا کہ کیا مولوی صاحب ( خلیفہ اوّل ) بھی ایسا ہی کہتے ہیں۔مولوی صاحب حضور کے رُعب سے پورا جواب نہ دے سکے۔حضور نے فرمایا کہ لائیکور آرسینک پانچ بوند اور لائیکورسٹ کنیا پانچ بوند ملا کر دیں ہم دعا کریں گے۔اس دوا کے استعمال سے مجھے چند روز میں کل آرام ہو گیا۔