حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 235 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 235

حیات احمد ۲۳۵ جلد پنجم حصہ اوّل شدد از پئے دیگراں شد فرط تریبد شود میر منزل مقیم بدوری آن یار رفته به گور دل و جاں کشد رنج رنج و درد آلیم چوں یاد آید آن صورت سرو قد میانم زخم میشود خادمیم چه حاصل از اظهار رنج و غمش دعا کن به درگاه ربِّ کریم بقیہ حاشیہ۔وقت کے حالات دیکھ کر از خود ہی ملازمت چھوڑ کر چلے جانے کا ارادہ کیا تھا لیکن حضرت مسیح موعود نے منع کیا اور فرمایا کہ لگی ہوئی روزی چھوڑ کر نہیں جانا چاہیے۔“ حضرت مولوی صاحب کے ریاست سے چلے جانے کے ایک روز بعد مہاراجہ صاحب کے چھوٹے بھائی امر سنگھ صاحب جو کہیں باہر گئے ہوئے تھے واپس آئے تو انہوں نے حضرت مولوی صاحب کے جانے پر افسوس کیا اور کہا کہ اگر مولوی صاحب ایک روز اور ٹھہرے ہوتے تو مہاراجہ سے یہ حکم منسوخ کرا دیتا۔چونکہ مہاراجہ پرتاب سنگھ آنجہانی کی اپنے بھائیوں سے ناچاقی رہتی تھی اور بعض لوگوں نے مہاراجہ پرتاب سنگھ صاحب کو یہ یقین دلایا تھا کہ مولوی صاحب آپ کے خلاف آپ کے بھائیوں کے ساتھ ہیں۔جس سے مہاراجہ صاحب ناراض ہو گئے۔لیکن دراصل مولوی صاحب کسی کے ساتھ نہ تھے۔چند ایک ہندوؤں نے ان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کیا تھا۔حضرت مولوی صاحب در ولیش سیرت انسان تھے اور ایسے امور میں دخل نہیں دیتے تھے۔اپنی ملازمت کے دوران کا ایک واقعہ جن دنوں میں ملازم تھا۔ان دنوں ایک دفعہ مہاراجہ رنبیر سنگھ صاحب صحت کی خرابی کے باعث موسم سرما میں دیر تک کشمیر میں ٹھہرے رہے اور کیم پوہ یعنی ماہ دسمبر کے وسط میں یہاں سے جموں روانہ ہوئے میں بھی ساتھ تھا یکم پوہ ( 15 دسمبر ) کو ہم دیری ناگ سے جموں کے لئے روانہ ہوئے دیری ناگ میں مجھے سامان کے لئے مزدور نہ ملے میں نے تحصیلدار صاحب کو بہتیرا کہا لیکن مزدور نہ مل سکے اور عصر کے قریب کا وقت ہو گیا باقی سب لوگ مہاراجہ صاحب کے ساتھ کافی وقت پہلے روانہ ہو چکے تھے میرے ساتھ ایک یتیم لڑکا تھا جس کی پرورش حضرت مولانا نورالدین صاحب فرماتے تھے۔میں نے سامان وہیں چھوڑا اور لڑکے کو گھوڑے پر اپنے پیچھے بٹھا کر نکلا۔مہاراجہ صاحب کا ان دنوں حکم تھا کہ جو سامان پیچھے رہ جائے اسے منزل پر پہنچا دیا جائے۔اور عموماً سامان ضائع نہیں ہوتا تھا۔چونکہ اس سال خشک سالی تھی اس لئے ابھی تک برف نہیں پڑتی تھی۔میں اس لڑکے ہمراہ رات کے بارہ بجے پیر پنجال کو عبور کر کے مہاراجہ صاحب کے کیمپ میں بمقام بانہال پہنچا اس وقت ایک پنڈت اہلکار حضرت مولوی صاحب کے پاس موجود تھا اور ان سے کہہ رہا تھا کہ آج آپ کا خلیفہ کہیں راستہ میں ہی مرجائے گا۔