حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 224
حیات احمد ۲۲۴ جلد پنجم حصہ اول ہوتی ہے اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ جو لوگ اس دنیا سے گزر جاتے ہیں وہ دنیا میں دوبارہ آباد ہونے کے لئے نہیں بھیجے جاتے۔“ ایام الصلح صفحہ ۶ ۸ تا ۸۸ - روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۲۲ تا ۳۲۴) غرض ایام الصلح حقائق و معارف قرآنی کا ایک دلکش منظر پیش کرتی ہے۔نجم الہدی کی اشاعت ان ایام میں ( جبکہ مولوی محمد حسین اور اس کے رفقاء جعفر زٹلی اور تبتی کی مخالفانہ سرگرمیاں جاری تھیں جو قارئین کرام اسی کتاب میں پڑھ آئے ہیں ) آپ نے ایک عظیم الشان تصنیف حجم الہدی کے نام سے شائع کی یہ کتاب بڑی تقطیع پر تین زبانوں میں شائع کی یعنی عربی، اردو، فارسی اور چوتھا کالم انگریزی زبان میں خالی رکھا گیا تھا اصل کتاب عربی میں تھی اس کا اردو اور فارسی ترجمہ بھی خود آپ ہی نے کیا تھا۔یہ کتاب حضرت نبی کریم ﷺ کے کمالات جمالی وجلالی کا ایک لانظیر نقشہ ہے اور اس کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نبی کریم اللہ کے عشق و محبت میں اور آنحضرت ﷺ کے حسن و احسان کے کمالات کی جو معرفت اور بصیرت آپ کو بخشی گئی ہے اس میں دوسرا کوئی آپ کا شریک نہیں اس محبت و عشق کا ایک مظاہرہ آپ کے اس شعر میں ہے۔بعد از خدا بعشق محمد تخمرم گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم جہاں اس کتاب کے پڑھنے سے حضرت نبی کریم علیہ کے کمالات اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قلب میں حضور کے لئے محبت کے جذبات کا ایک پر تو نظر آتا ہے وہاں حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے محبت و اخلاص کا ایک جذبہ پیدا ہوتا ہے اور ہر سعید الفطرت انسان کو نوٹ۔مکرم عرفانی صاحب کو سہو ہوا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود تحریر فرمایا ہے کہ وَ هَذِهِ لَهُمُ كَغَوَاتٍ فِي لِسَانَيْنِ مِنِّى وَ مِنْ فَوُرِ مَحَبَّتِى ، وَزَادَ الْإِنْجَلِيزِيَّةُ وَالفَارِسِيَّةُ عَلَيْهَا بَعْضُ أحبتى“ یعنی یہ رسالہ مخالفوں کے لئے ایک فریاد رس ہے جس کو میں نے جوش محبت سے دوزبانوں میں لکھا ہے اور میرے بعض دوستوں نے فارسی اور انگریزی زبان کو ان پر زیادہ کیا۔(روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۹) (ناشر)