حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 216
حیات احمد ۲۱۶ جلد پنجم حصہ اول سلطان القلم اور امام الوقت کی ذوالفقار صفت قلم کا نتیجہ ہے۔اور کلام الامام اور امام الکلام ایک مسلم بات ہے جس قسم کے حقائق اور معارف اور قرآنی اسرار اس رسالہ میں حضرت اقدس نے بیان فرمائے ہیں ان کی نظیر پہلی تصنیفات میں نہ ملے گی اپنے دعاؤں پر ایسے انداز اور طرز سے قلم اٹھایا ہے کہ گویا مجسم کر کے مدعی کو دکھا دیا ہے اور کم سواد اور عام فہم آدمی بھی بشر طیکہ صفائی قلب رکھتا ہو امام الوقت کی شناخت کر سکے بہر حال کتاب کی خوبیاں دیکھنے اور پڑھنے والوں کو معلوم ہوں گی ہم اس مختصر نوٹ میں کچھ بھی ظاہر نہیں کر سکتے فارسی ترجمہ جس خوبی اور لطافت سے کیا گیا ہے وہ جناب مولا نا مولوی عبدالکریم صاحب کے لئے بذات خود ایک فوق العادت نشان ہے اہل زبان پڑھ کر ایک دفعہ (میری تصویر پر مصور بھی دھوکا کھا جائیں گے ) کے مصداق ہوں گے۔فارسی زبان کا تازہ لٹریچر نظر آئے گا۔اور جس خوش اسلوبی سے اس کتاب کے مضامین کو فارسی میں ادا کیا گیا ہے وہ خدا تعالیٰ اور صرف خدا تعالیٰ کا ہی فضل ہے ہم دعا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ مولوی صاحب کی اس سعی کو سعی مشکور فرما دے اور ان کو جزائے خیر دے اور اس سے بھی زیادہ فضل ان پر کرے تا کہ وہ اس کے پاک دین کی خدمت میں اس سے بھی زیادہ مستعدی کے ساتھ کام کر سکیں اور ہم لوگوں کو بھی مولوی صاحب کا سا صدق وثبات عطا کرے تا کہ اس کے مقدس امام اور اس کے مقدس مشن کے لئے مفید ہوسکیں۔ایام الصلح کا فارسی ترجمہ فی الحال شائع ہوا ہے اور مہتم مطبع ضیاء الاسلام قادیان کے نام درخواست کرنے پر ایک روپیہ قیمت پر ملے گا۔فارسی زبان سے دلچپسی رکھنے والے اور یو نیورسٹی کے امتحانات منشی عالم وغیرہ کی تیاری کرنے والے اس رسالہ کو ضرور پڑھیں۔مگر اردو ایڈیشن یکم جنوری ۱۸۹۹ء کو شائع ہوا اس لئے کہ ایک نیا معترض جو خاندانی حیثیت سے شاہان کابل سے نسبت رکھتا تھا اور حکومت انگریزی میں معزز عہدہ دار تھا ان کا نام شہزادہ والا گو ہر تھا۔جولود ہا نہ میں مقیم شہزادگان میں سے ایک تھے اور حضرت شہزادہ عبدالمجید خاں صاحب مجاہد ایران کے اقارب میں سے تھے۔انہوں نے حضرت شہزادہ عبدالمجید خاں کے خلاف سراج الاخبار جہلم میں